افغان سرزمین پر ایف سی اہلکاروں کا قتل، پاکستان کا احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سرتاج عزیز نے جمعرات کو مالدیپ میں افغان وزیر خارجہ ضرار مقبول عثمانی کو پاکستان کے تحفظات سے آگاہ کیا

پاکستان نے افغان سرزمین پر کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کی جانب سے فرنٹیئر کور کے 23 اہلکاروں کو گلے کاٹ کر ہلاک کرنے پر افغانستان سے شدید احتجاج کیا ہے۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق قومی سلامتی اور خارجہ امور کے متعلق وزیر اعظم کے مشیر سرتاج عزیز نے جمعرات کو مالدیپ میں افغان وزیر خارجہ ضرار مقبول عثمانی کے ساتھ ملاقات کی اور افغانستان کی حدود میں ایف سی کے 23 اہلکاروں کے قتل پر پاکستان کے سخت احتجاج اور تحفظات سے آگاہ کیا۔

’ایف سی اہلکاروں کا قتل طالبان کی اشتعال انگیز کارروائی ہے‘

پاکستان اور افغانستان کے یہ دونوں حکومتی اہلکار مالدیپ میں سارک ملکوں کے وزرا کے اجلاس میں شرکت کے لیے گئے ہوئے ہیں۔

وزارت خارجہ کے مطابق سرتاج عزیز نے اپنے افغان ہم منصب کو یاد دلایا کہ حال ہی میں انقرہ میں ہونے والے سہ فریقی اجلاس میں اس بات پر اتفاق ہوا تھا کہ دونوں ملک نہ صرف اپنی سرزمین کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہونے سے روکیں گے بلکہ مخالفانہ کارروائیوں میں شامل جنگجوؤں کے خلاف کارروائی بھی کریں گے۔

سرتاج عزیز نے افعان وزیر خارجہ پر زور دیا کہ واقعے میں ملوث افراد کو گرفتار کرنے اور انہیں سزا دینے کے لیے فوری کارروائی کی جائے۔

یاد رہے کہ سنیچر 16 جنوری کو تحریکِ طالبان مہمند ایجنسی کے رہنما عمر خالد خراسانی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ انہوں نے ایف سی کے ان 23 اہل کاروں کو قتل کر دیا ہے جنھیں جون سنہ 2010 میں اغوا کیا گیا تھا۔

بیان کے مطابق طالبان نے یہ کام اپنے ساتھیوں کے انتقام کی خاطر کیا۔

ایف سی کے یہ اہلکار جون سنہ 2010 میں شونکڑی پوسٹ سے اغوا کیے گئے تھے۔ بعد ازاں پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف اور فوج کی جانب سے ایف سی اہلکاروں کی ہلاکت پر شدید مذمت سامنے آئی۔ پاکستان کی فوج نے اسے اشتعال انگیز اقدام قرار دیا تھا۔

ایف سی اہلکاروں کی ہلاکت سے اسی واقعے کے بعد سے پاکستانی حکومت اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات تعطل کا شکار ہوئے۔

مذاکرات کے لیے پاکستانی حکومت کی جانب سے نامزد کمیٹی نے کہا تھا کہ موجودہ حالات میں وہ طالبان کی نمائندہ کمیٹی سے مذاکرات سے قاصر ہے۔

اسی بارے میں