برطانیہ، ہندوستان، اور پاکستان کا لاوارث سپاہی

Image caption فخرالدین نے دوسری جنگ عظیم کے بعد 1965 کی جنگ میں بھی خدمات پیش کیں

فخر الدین نے 15 برس کی عمر میں گھر چھوڑا اور اس کے بعد ہمیشہ کے لیے دربدر ہوگئے۔

لوگوں کی نظر میں وہ ایک ایسے سپاہی ہیں جنہوں نے دوسری جنگ عظیم اور پاکستان اور بھارت کے درمیان 1965 کی جنگ میں شرکت کی، لیکن اپنے لیے وہ ایک لاوارث شخصیت ہیں۔

فخر الدین کی پیدائش بھارتی شہر بریلی کے گاؤں سپری کی ہے، جہاں ان کا خاندان کاشت کاری سے منسلک تھا۔

ایک دن نوجوان فخرالدین اپنے دوستوں ناصر علی، عبدالمجید اور نثار کے ہمراہ لکھنؤ پہنچ گئے، جہاں سے ان کی زندگی نے ایک نیا رخ اختیار کیا۔ وہ بتاتے ہیں کہ وہ دن بھر شہر میں گھومتے رہے، رات کو ایک کوٹھی کے باہر فٹ پاتھ پر لیٹ گئے۔

’آدھی رات کو کچھ لوگ باہر نکلے، جن میں سے ایک شخص نے دربان کو بلایا کو کہا کہ یہ چھورے یہاں کیوں سو رہے ہیں؟ دربان ہمیں ساتھ لے گیا، قریب جاکر دیکھا تو نہرو صاحب کھڑے تھے، انہوں نے پوچھا کہ کہاں سے آئے ہو؟‘

’ہم نے انہیں بتایا کہ بریلی سے آئے ہیں، نہرو صاحب نے کہا کہ باہر مت سوؤ، انہوں نے دربان کو ہمیں اندر لے جانے اور کھانا دینے کی ہدایت کی، دربان نے کیلے کے پتوں پر چاول اور ارہر کی دال ڈال کر دی۔‘

فخر الدین کے مطابق جب صبح کو اٹھے تو میز پر مٹی کے بڑے بڑے گلاس پڑے تھے، دربان نے وہ دھلوائے اور گلاس میں لسی بھر دی اور ساتھ دو دو پوریاں دیں اور کہا، کھاؤ اور یہاں سے بھاگ جاؤ۔

فخر الدین بتاتے ہیں وہ 21 مارچ 1942 کا دن تھا۔ جب ناشتے کے بعد وہ شہر میں نکلے تو ڈنڈے والے اہلکار گھوم رہے تھے۔ ان دنوں دوسری جنگ عظیم کے لیے بھرتی جاری تھی، اہلکاروں نے معلوم کیا کہ فوج میں بھرتی ہوگے؟ انہوں نے ہامی بھر لی۔ اہلکاروں نے چاروں کو ٹانگے میں ڈالا اور چھاؤنی میں چھوڑ آئے۔

’تربیت کے دوران دوگھنٹے نظم وضبط سکھاتے اور یہ بتاتے کہ اپنے افسر کی پہچان کس طرح کرنی ہے، یہ نہ ہو کہ جرمنی کا افسر آ جائے اور آپ پہچان نہ سکیں وہ لے جا کر شوٹ کردے، اسی دوران فوجی ٹرک اور ٹینک، رائفل اور مشین گن چلانا سکھائی۔‘

فخرالدین تربیت کے بعد اپنے باقی تین دوستوں سے الگ ہوگئے، انہیں جہاز میں سوار کر کے سماترا اور جاوا لے جایا گیا۔ فخر الدین بتاتے ہیں کہ وہ پہلی بار ہوائی جہاز میں سوار ہوئے تھے، الٹیاں کرتے ہوئے وہاں پہنچے، کبھی پیدل چلتے، کبھی جہاز میں۔

ایسے لڑتے رہے۔۔۔ آخر 1945 میں جنگ ختم ہوگئی اور انہیں کلکتہ بھیج دیا گیا، جہاں سے دلی تبادلہ کر کے افسروں کے گھروں پر ڈیوٹی لگا دی گئی۔

Image caption فخر الدین کے پاس برطانوی حکومت اور پاکستان حکومت کی جانب سے ان کی خدمات کے اعزاز میں دیے گئے تمغے موجود ہیں

’ان دنوں لکھنؤ، مراد آباد، نینی تال اور دیگر علاقوں میں دنگہ فساد ہو رہا تھا لیکن ابھی دلی میں امن تھا۔ میں نے اپنے افسران کو بتایا کہ میں پاکستان جاؤں گا کیونکہ ہم نے مسلم لیگ کو ووٹ دیا ہے۔‘

فخر الدین کو والد کا خط ملا جس میں کہا گیا تھا کہ وہ دو بیٹوں اور بیٹی کے ہمراہ پاکستان جا رہے ہیں وہ بھی وہاں آجائیں۔ فخر الدین بتاتے ہیں کہ وہ 15 اگست کو دلی سے ٹرین میں سوار ہوئے جو جگہ جگہ کھڑی ہوجاتی کیونکہ ٹرینوں پر حملے ہو رہے تھے۔ وہ بھی دیگر سپاہیوں کے ساتھ ساری رات رائفلیں لے کر پہرا دیتے۔

طویل سفر کے بعد جب ان کی گاڑی اٹاری کے قریب پہنچی تو وہاں ایک گاڑی پہلے سے کھڑی تھی جس کے اندر کٹی ہوئی لاشیں پڑی تھیں، جنہیں وہاں ہی دفن کیا گیا۔ آگے بتاتے ہوئے فخر الدین کی بوڑھی آنکھوں میں نمی آجاتی ہے، وہ بتاتے ہیں وہاں انہیں اپنے والد کا کٹا ہوا سر نظر آیا۔

’اب میری دلیری دیکھو، میں نے سر کو اٹھایا اور تولیے میں لپیٹ لیا۔ جب لاہور پہنچے تو صوبیدار نے پوچھا کہ تم نے اٹاری سے کیا اٹھایا تھا جب اس نے تولیے میں سر دیکھا تو پوچھا کہ یہ کیوں اٹھا کر لائے ہو؟ میں نے اس کو جواب دیا کہ میرے والد نے پاکستان کوووٹ دیا تھا، ان کی تدفین پاکستان میں ہونی چاہیے، مجھے دھڑ نہیں ملا، ورنہ اس کو بھی لے آتا۔ لیکن انہوں نے سر چھین کر وہاں اسٹیشن پر ہی دفنا دیا۔‘

پاکستان میں فخرالدین کا نوشہرہ اور بعد میں رسالپور تبادلہ کردیا گیا، جہاں وہ جلے ہوئے ٹینکوں کی مرمت کرتے تھے۔ وہ بتاتے ہیں ان دنوں جو تھوڑا بہت پڑھنا لکھنا جانتے تھے انہیں ترقی دے کر کپیٹن کردیا گیا کیونکہ ان دنوں افسر زیادہ نہیں تھے۔ انہیں منسٹری آف ڈیفینس کانسٹیبلری ڈیرہ اسماعیل خان بھیج دیا گیا اور وہاں سے جہلم میں ایمونیشن ڈپو آگئے اور آخر ریٹائرمنٹ لے لی۔

ریٹائر منٹ کے بعد فخر الدین کراچی آگئے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’اس وقت جو کراچی ہے وہ ہمارا نہیں، ساری رات پھرتے تھے لیکن کوئی خوف و خطرہ نہیں تھا، ہماری کراچی تو ختم ہوگئی۔‘

پاکستان اور بھارت کے درمیان 1965 کی جنگ میں انہیں محکمۂ دفاع نے چٹّھی لکھ کر طلب کر لیا۔ فخر الدین کا کہنا ہے کہ انہیں متنبہ کیا گیا کہ اگر نہ آئے تو پینشن بند کردیں گے۔

رسالپور سے جہاز کے ذریعے سندھ کے صحرائی علاقے چھور پہنچایا گیا، جہاں بھارتی سٹیشن مونا باؤ پر قبضہ ہوچکا تھا: ’ہم وہاں ٹینک سے گولہ باری کرتے تھے۔ یہ پتہ نہیں تھا کہ سامنے جاکر کہاں لگتا ہے۔ 17 دن تک یہی کام کرتے رہے، پھر واپس آ گئے۔‘

’ہمارے پاس مارک فائیو ماڈل کے چھوٹے ٹینک تھے، ہم نے انڈیا کے تین ٹینک پکڑے تھے، جو جدید تھے ان میں گولہ بارود بھی بھرا ہوا تھا۔‘

انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ’بھارتیوں کے ٹینک انھی پر استعمال کرتے تھے۔‘

فخر الدین کے مطابق انہوں نے وہاں چھ ماہ گزارے۔ اسی درمیان رمضان آگیا لیکن جنرل ایوب خان کے حکم پر کسی نے روزہ نہیں رکھا کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اس سے وہ کمزور ہوجائیں گے اور لڑ نہیں سکیں گے۔ چھور سے انہیں حیدرآباد چھاؤنی بھیج دیا گیا جہاں انہوں نے تین سال گزار دیے اور کراچی واپس آگئے جہاں انہوں نے ایک نجی ہپستال میں چوکیداری سنبھال لی۔

بزرگ فخرالدین سلطان آباد کے علاقے میں ایک دھوبی گھاٹ میں رہتے ہیں، جس کے مالک سے ان کی دوستی تھی۔ انہوں نے شادی بھی نہیں کی۔ ایسا کیوں نہیں کیا اس کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں۔

فخر الدین کے پاس برطانوی حکومت اور پاکستان حکومت کی جانب سے ان کی خدمات کے اعزاز میں دیے گئے تمغے موجود ہیں جن کی حال ہی میں انہوں نے پالش کرائی ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ وہ 1950 تک اپنے گاؤں خط لکھتے رہے لیکن کوئی جواب نہیں آیا، انہیں یقین ہے کہ سارے دنگوں میں مارے گئے ہیں، عمر کے اس حصے میں انہیں تنہائی کا احساس ہوتا ہے اور یہ خیال آتا ہے کہ کاش ان کا اپنا بھی کوئی زندہ ہوتا۔

اسی بارے میں