’کابینہ کے اجلاس میں طالبان سے مذاکرات پر مشاورت ہو گی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مذاکرات کا آپشن ابھی ختم نہیں ہوا: سرتاج عزیز

پاکستان کے وزیرِاعظم کے مشیر برائے امورِ خارجہ اور قومی سلامتی سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ منگل کو کابینہ کے اجلاس میں طالبان سے مذاکرات پر مشاورت کی جائے گی۔

پاکستان کے سرکاری ریڈیو کے مطابق سرتاج عزیز نے یہ بات اسلام آباد میں منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انھوں نے کہا کہ مذاکرات کا راستہ ابھی بند نہیں ہوا۔

دوسری جانب حکومتی کمیٹی انتظار میں ہے کہ طالبان سے مذاکرات کا ’گرین سگنل‘ ملے اور بات چیت آگے بڑھے۔

کمیٹی کے رہنما رحیم اللہ یوسف زئی کے مطابق حکومت کے ساتھ ملاقات یا کمیٹی کے اجلاس کو فی الحال طلب نہیں کیا گیا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ طالبان مذاکرات کرنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ: ’ طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کے ساتھ غیر رسمی رابطے ہیں وہ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں لیکن ہم کہتے ہیں کہ حالات ٹھیک ہوں گے تو ہی بات آگے بڑھے گی۔‘

خِیال رہے کہ کابینہ کے 20 جنوری کو ہونے والے اجلاس میں وزیراعظم نے کہا تھا کہ غیر معمولی صورتِ حال میں غیر معمولی اقدامات کرنا ہوں گے۔ تاہم اس اجلاس میں قومی سلامتی پالیسی منظور نہیں ہوئی تھی۔

اس اجلاس میں طالبان سے مذاکرات پر بھی بات ہوئی لیکن دہشت گردی کے حملے نہ رکنے کے پیِش نظر 23 جنوری کو قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا گیا تھا۔

29 جنوری کو جب پاکستان کے وزیرِاعظم ایوان میں آئے تو بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ وہ آپریشن کا اعلان کر سکتے ہیں لیکن انھوں نے امن کو ایک اور موقع دینے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان سے مذاکرات کے لیے مذاکراتی کمیٹی تشکیل دیے جانے کا اعلان کیا۔

پاکستان کی پارلیمان میں موجود تقریباً سبھی جماعتوں نے وزیراعظم کی حمایت کا اعلان کیا۔

طالبان نے مذاکرات کا خیرمقدم تو کیا اور اس کے لیے کمیٹی بھی تشکیل دی لیکن پاکستان میں دہشت گردوں کی کاروائیاں تھم نہ سکیں۔

طالبان کا موقف ہے کہ وہ یہ کاروائیاں اپنے خلاف فوج کی جانب سے ہونے والے حملوں کی وجہ سے کر رہے ہیں۔

18 فروری کو حکومتی کمیٹی نے باضابطہ طور پر طالبان کی کمیٹی سے یہ کہہ کر 17 روز تک جاری رہنے والے مذاکرات کو معطل کرنے کا اعلان کیا کہ اب تشدد ختم ہونے پر ہی بات چیت کی جائے گی۔

ایف سی کے 23 اہل کاروں کی ہلاکت کے بعد پاکستانی فوج نے شمالی وزیرستان کے علاوہ دیگر قبائلی علاقوں میں مختلف کارروائیوں کی صورت میں طالبان کو جواب دیا۔

فوج ان الزامات کو بھی مسترد کر رہی ہے کہ وہ کوئی آپریشن کر رہی ہے یا اس نے کبھی بھی طالبان کے بچوں یا خواتین کو حراست میں لیا؟

فوجی ذرائع نے 19 فروری کو ایک بیان جاری کیا۔ جس میں 10 ستمبر کو منعقد ہونے والی کل جماعتی کانفرنس کے بعد سے لے کر ملک میں ہونے والی دہشت گری کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کے اعدادوشمار موجود تھے۔

اس بیان کے مطابق دہشت گردی کے واقعات میں 460 افراد ہلاک ہوئے جن میں 114 فوجی تھے۔

پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے اس سارے مذاکراتی عمل اور اس دوران ہونے والی دہشت گردی پر چپ اختیار کی لیکن 21 فروری کو ایف سی خیبر پختونخواہ کے ہیڈ کوارٹر جا کربیان دیا کہ پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری کو درپیش کسی اندرونی اور بیرونی خطرے سے نمٹنے کے لیے فوج کی صلاحیت کے بارے میں کس کو کوئی شک و شبہ نہیں ہونا چاہیے۔

طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے ایک روز قبل یہ دعوی کیا ہے کہ جھگڑے کی بنیاد آئین جمہوریت یا شریعت نہیں بلکہ پاکستان کا سامراجی قوتوں کے ساتھ کھڑے ہونا ہے۔

جماعت اسلامی کے سربراہ نے وزیراعظم کے نام اپنے پیغام میں کہا ہے کہ وہ افغان طالبان کے رہنما ملا عمر سے مدد لیں۔

اپوزیشن جماعتیں خصوصاًپیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور اے این پی اب مذاکرات کی بجائے وزیراعظم سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ وہ انھیں اعتماد میں لیں اور کوئی فیصلہ کریں۔

اسی بارے میں