شمالی وزیرستان: ’گاڑی پر فائرنگ، طالبان کمانڈر ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تحریک کے سابق سربراہ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد عصمت اللہ شاہین کو قائم مقام سربراہ مقرر کیا گیا تھا

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں ایک گاڑی پر فائرنگ کے نتیجے میں اہم طالبان کمانڈر عصمت اللہ شاہین کی تین ساتھیوں سمیت ہلاکت کی اطلاع ہے۔

یہ واقعہ آج صبح ایجنسی ہیڈکوارٹر میران شاہ بازار سے کچھ دور دتہ خیل روڈپر درگہ منڈی میں پیش آیا ہے۔

سرکاری اہلکاروں نے بتایا ہے کہ عصمت اللہ شاہین دو ساتھیوں اور ڈرائیور کے ہمراہ جا رہے تھے کہ نامعلوم افراد نے گاڑی پر فائرنگ کر دی۔

اس حملے میں مقامی لوگوں اور سرکاری ذرائع کے مطابق طالبان کمانڈر عصمت اللہ شاہین، ان کےڈرائیور اور دونوں ساتھی ہلاک ہو گئے ہیں۔ اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ انھیں کس نے ہلاک کیا ہے۔

عصمت اللہ شاہین کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے اہم رہنما تھے۔ تحریک کے سابق سربراہ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد عصمت اللہ شاہین کو اس وقت تک قائم مقام سربراہ مقرر کیا گیا تھا جب تک تحریک کا کوئی باضابطہ سربراہ منتخب نہیں کر لیا گیا۔

عصمت اللہ شاہین جنوبی وزیرستان کے ساتھ بھٹنی قبیلے سے تعلق رکھتے تھے اور تحریک طالبان میں اہم کردار ادا کر رہے تھے۔ ان کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ سخت فیصلے کیا کرتے تھے۔

عصمت اللہ شاہین تحریک طالبان کے سابق سربراہ بیت اللہ محسود کے دور میں ان کے اہم نائب کے طور پر کام کرتے رہے اور انھوں نے حکومتی حمایتی گروپ کے ساتھ متعدد جھڑپوں میں حصہ لیا تھا۔ اس مخالف دھڑے کی سربراہی حاجی ترکمانستان کیا کرتے تھے۔

عصمت اللہ شاہین کے بارے میں ذرائع نے بتایا کہ انھوں نے ٹانک کے قریب ملازئی سے 2011 میں ایف سی کے 20 کے لگ بھگ اہلکاروں کے اغوا اور ان کی ہلاکت بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔

اسی بارے میں