’کراچی بدامنی کی وجہ غیر قانونی تارکینِ وطن‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption کراچی بدامنی کیس کی آئندہ سماعت بدھ کو ہو گی

حکومت سندھ کا کہنا ہے کہ کراچی میں 25 لاکھ غیر قانونی تارکینِ وطن رہتے ہیں جس کی وجہ سے شہر کی صورتِ حال سنگین ہوگئی ہے۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کے روبرو ایڈووکیٹ جنرل سندھ عبدالفتاح ملک نے پیر کو حکومت کا موقف بیان کیا۔

سپریم کورٹ کا یہ بینچ کراچی بدامنی کیس میں جاری کیے گئے احکامات پر عمل درآمد کا جائزہ لے رہا ہے۔

چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے ایڈووکیٹ جنرل سے پوچھا کہ کیا کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن سے صورتِ حال میں بہتری آئی ہے؟

ایڈووکیٹ جنرل عبدالفتاح ملک کا کہنا تھا کہ غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے الزام میں ہزاروں ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے لیکن انھیں تاحال سزا نہیں مل سکی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا: ’خصوصی عدالتوں کے ججوں کا موقف ہے کہ وہ نئے مقدمات کی سماعت کی بجائے پہلے والے مقدمات نمٹائیں گے۔‘

خیال رہے کہ غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے مقدمات میں گرفتار ملزمان پر الزام ثابت کرنے کے لیے انتہائی مختصر کارروائی ہوتی ہے، کیونکہ سب سے بڑا ثبوت ان سے اسلحے کی برآمدگی ہوتا ہے۔

ایڈیشنل آئی جی شاہد حیات نے بتایا: ’گذشتہ چھ ماہ میں دس ہزار سے زائد ملزمان کو گرفتار کیا گیا جن میں سے 175 کے چالان انسدادِ دہشتِ گردی جب کہ سات ہزار سے زائد مقدمات کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالتوں میں پیش کیا گیا۔‘

سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو لالہ فضل الرحمان اور ذوالفقار علی شاہ نے عدالت کو بتایا کہ کراچی میں 60 ہزار ایکڑ سرکاری زمین پر قبضہ کیا گیا ہے جن میں سے 52 ہزار ایکڑ کراچی پورٹ ٹرسٹ، پورٹ قاسم، ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی، ملیر ڈیویلپمنٹ اتھارٹی، نیشنل لاجسٹک سیل اور دیگر ادارے قابض ہیں جب کہ باقی آٹھ ہزار ایکڑ پر لوگوں نے غیر قانونی گاؤں، پولٹری فارم اور تعمیراتی رہائشی منصوبے بنا رکھے ہیں۔

جسٹس انور ظہیر جمالی کا کہنا تھا کہ زمینوں کے مالکان دھکے کھا رہے ہیں اور ادارے خود زمینوں پر قبضے کی سرپرستی کر رہے ہیں۔

عدالت نے حکم جاری کیا کہ قبضہ ختم کرانے سے متعلق تمام ڈپٹی کمشنروں نے کیا کارروائی کی اس سے عدالت کو آگاہ کیا جائے۔ اس کے بعد سماعت بدھ تک ملتوی کردی گئی۔

اسی بارے میں