پاک افغان سرحد پر سنو فیسٹیول کا انعقاد

Image caption میلے کے دوران کھیلوں کے مختلف مقابلے منعقد ہوئے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں افغانستان کی سرحد سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع سیاحتی مقام شاہی میں جاری دو روزہ سنو فیسٹیول اختتام پذیر ہوگیا۔

شدت پسندی سے متاثرہ ضلع دیر کے اس سیاحتی مقام پر پاکستان فوج کے زیرِانتظام منعقد ہونے والے اس میلے میں پیراگلائیڈنگ، رسہ کشی، والی بال اور جمناسٹک کے مقابلے شامل تھے۔

میلے میں ہزاروں کی تعداد میں مقامی اور غیر مقامی سیاح شریک ہوئے۔ بعض سیاحوں نے ڈھول کی تھاپ پر رقص کیا جبکہ فوجی بینڈ نے بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔

ملک کے مختلف علاقوں سے میلے میں شرکت کرنے والے سیاحوں نے بی بی سی کو بتایا کہ افغان سرحد سے متصل اس علاقے میں فیسٹیول کے انعقاد سے اندازہ ہوتا ہے کہ اب یہاں امن ہے اور کوئی خطرہ نہیں ہے۔

Image caption میلے کی وجہ سے بازاروں میں خوب بھیڑ بھاڑ دیکھنے میں آئی

راولپنڈی کی ایک سیاح سبحانہ نے بتایا کہ میلے میں مختلف سٹالز اور برف پر کھیلے جانے والے مختلف کھیلوں سے وہ بہت لطف اندوز ہوئی ہیں۔

فوج کے میجر تاشفین نے کہا کہ اس قسم کے فیسٹیول کے انعقاد کا مقصد یہی ہے کہ یہاں کی معیشت بہتر ہو اور سیاح اس علاقے میں آئیں جس سے دنیا کو ایک پیغام بھی ملے کہ اب یہاں امن ہے اور اس علاقے کے لوگ امن سے محبت کرتے ہیں۔

شاہی کے علاقے میں لکڑی سے بنے ہوئے چھوٹے ہوٹلوں اور دکانوں پر سیاحوں کا بھیڑ بھاڑ رہی جس سے ہوٹلوں کے مالکان بہت خوش نظر آئے۔

چائے فروخت کرنے والی ایک دکان کے مالک علی نے بتایا کہ فیسٹیول کی وجہ سے علاقے کے رونقیں لوٹ آئی ہیں اور لوگوں کی بڑی تعداد میں آمد سے ان کا روزگار بہتر ہوا ہے اور آمدنی میں اضافہ ہوا ہے۔

Image caption اس میلے کا انتظام پاکستان فوج نے کیا تھا

صوبہ خیبر پختونخوا میں شدت پسندی کے واقعات کی وجہ سے سیاحت کا کاروبار بری طرح متاثر ہوا ہے۔ ضلع دیر میں طالبان شدت پسندی کے متعدد واقعات میں سکیورٹی فورسز کے علاوہ عام شہری بھی نشانہ بنے ہیں۔

اس علاقے میں سرحد پار سے آنے والے شدت پسندوں نے بھی متعدد کارروائیاں کی ہیں جس کی وجہ سے اس خوبصورت مقام پر سیاحت نہ ہونے کے برابر رہ گئی تھی۔

اب سیاحتی میلے کے انعقاد سے مقامی افراد کو سیاحت کی بحالی اور معاشی حالات میں بہتری کی امید پیدا ہوئی ہے لیکن یہ اس صورت میں ہی ممکن ہو گا جب ملک کے مختلف حصوں سے سیاح بغیر کسی خوف کے یہاں کا رخ کر سکیں گے۔

اسی بارے میں