نومولود بچوں کی اموات میں پاکستان سرِفہرست: رپورٹ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ایک ہزار بچوں میں سے 40.7 بچے یا تو مردہ پیدا ہوتے ہیں یا وہ پیدا ہونے کے دن ہی فوت ہو جاتے ہیں

بچوں کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم سیو دی چلڈرن کا کہنا ہے کہ مردہ بچہ پیدا ہونے اور پیدائش کے دن فوت ہو جانے والے بچوں کی تعداد کے حوالے سے پاکستان سرِ فہرست ہے۔

سیو دی چلڈرن نہ یہ بات منگل کو اپنی تازہ رپورٹ میں کہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ایک ہزار بچوں میں سے 40.7 بچے یا تو مردہ پیدا ہوتے ہیں یا وہ پیدا ہونے کے دن ہی فوت ہو جاتے ہیں۔

یہ اموات دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہیں۔

پاکستان کے بعد دوسرے نمبر پر افریقہ کا ملک نائجیریا ہے جہاں ایک ہزار بچوں میں سے 32.7 بچے مردہ پیدا ہوتے ہیں یا وہ پیدا ہونے کے دن ہی فوت ہو جاتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کی اموات شرح میں گذشتہ بیس برسوں میں بہتری آئی ہے۔ 1990 میں ایک ہزار بچوں میں سے 138 فوت ہو جاتے تھے، جبکہ 2012 میں یہ تعداد 86 تک گر گئی تھی۔

تاہم نومولود بچوں کی شرحِ اموات میں خاص بہتری دیکھنے کو نہیں ملی، اور ایک ہزار میں سے 42 بچے پیدائش کے پہلے ماہ میں ہی فوت ہو جاتے ہیں۔

اس رپورٹ میں ایسے ممالک کا ذکر بھی کیا گیا ہے جنہوں نے 1990 اور 2012 کے درمیان نومولود بچوں کی شرحِ اموت کو واضح طور پر کم کیا ہے۔ ان میں چین اور مصر شامل ہیں، جنھوں نے بچوں کی اموات کی شرح میں 60 فیصد تک کمی لائی ہے۔

رپورٹ کے مطابق زچگی کے عمل کے دوران انفیکشن اور طبی پیچیدگیوں اور ماں کی خراب صحت کے باعث بچوں میں مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ پاکستان اور دوسرے ترقی پذیر ممالک میں ان خصوصی طبی سہولیات کا فقدان ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق یہ بات انتہائی ضروری ہے کہ حاملہ خواتین کو ڈاکٹر یا تربیت یافتہ دائی تک رسائی حاصل ہو۔