مذاکرات کے بارے میں کسی ابہام کا شکار نہیں: نواز شریف

تصویر کے کاپی رائٹ afp
Image caption قومی سلامتی پالیسی میں بہتری کی گنجائش ہے: نواز شریف

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ امن مذاکرات کے سلسلے میں حکومت کسی ابہام کا شکار نہیں ہے اور قومی سکیورٹی پالیسی کسی ایک جماعت یا ملک کی نہیں بلکہ پورے ملک کی پالیسی ہے۔

بدھ کو ملک کی قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اگر کوئی سیاسی جماعت سمجھتی ہے کہ وزیرِ داخلہ کی وضاحت سے تذبذب پیدا ہوا ہے تو اسے دور کرنے کی پوری کوشش کی جائے گی۔

پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق نواز شریف نے کہا کہ حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے بات چیت کے عمل کو واضح رکھا اور کمیٹیوں کی بات چیت سے قوم کو آگاہ کیا گیا تاکہ قوم کو معلوم ہوتا رہے کہ مذاکرات کس سمت میں جا رہے ہیں۔

قومی سلامتی پالیسی کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں انتہائی محنت سے کام کیا گیا ہے جو قابل تعریف ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ کسی سیاسی جماعت یا حکومت کی پالیسی نہیں بلکہ ریاست کی پالیسی ہے اور یہ حرفِ آخر بھی نہیں۔

نواز شریف نے کہا کہ اس پالیسی میں بہتری کی گنجائش ہے اور ایوان کی آرا کی روشنی میں اسے بہتر کیا سکتا ہے اور ’جو تجاویز واقعتاً اس کا حصہ بننے کے قابل ہوں گی تو انھیں ضرور شامل کیا جائے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ آج کا ایوان ماضی کے مقابلے میں کافی مختلف ہے اور اس ایوان میں حقائق کی روشنی میں بات کی جا سکتی ہے کیونکہ ’ہم سب نے اپنی غلطیوں سے سبق سیکھے ہیں اور اپنے تجربات کی بنا پر اپنی اصلاح کی ہے۔‘

اس سے قبل ایوان سے اپنے خطاب میں قائدِ حزبِ اختلاف خورشید شاہ نے کہا کہ انھیں ذرائع ابلاغ سے ہی معلوم ہوتا رہا کہ مذاکراتی کمیٹیوں کے درمیان کیا ہو رہا ہے اور کبھی وزیراعظم نے یہ زحمت نہیں کی کہ اپوزیشن کو اعتماد میں لے کر انھیں آگاہ کرتے۔

انھوں نے کہا کہ یہ کہنا کہ آپ کی رائے کا احترام کریں گے اور اس پر عمل کرنا دو انگ باتیں ہیں۔

خورشید شاہ نے کہا کہ مذاکرات کے بارے میں وزیرِ داخلہ کی وضاحتوں نے مزید ابہام پیدا کیا ہے کہ حکومت کوئی فیصلہ نہیں کر سکی ہے۔

انھوں نے وزیراعظم سے کہا کہ ’حکومت اس بارے میں واضح پالیسی دے تاکہ قوم ابہام کی دلدل سے نکل سکے۔‘

اسی بارے میں