’ارکان پارلیمان کے میڈیکل ٹیسٹ کروائیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جمشید دستی کا تعلق جنوبی پنجاب کے علاقے ضلع مظفر گڑھ سے ہے اور وہ گذشتہ سال ہونے والے عام انتخابات میں آزاد حیثیت میں کامیاب ہوئے تھے

پاکستان کی پارلیمان کے ایوان زیریں میں سپیکر ایاز صادق نے جنوبی پنجاب سے ممبر قومی اسمبلی جمشید دستی کو خبر دار کیا ہے کہ اگر وہ ارکان اسمبلی پر غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات ثابت نہ کر سکے تو ان کے خلاف کارروائی کا فیصلہ بھی ارکان اسمبلی کریں گے۔

پاکستان کی قومی اسمبلی کا اجلاس جمعرات کو اپنے معمول کے مطابق چل رہا تھا کہ اچانک جمشید دستی نکتۂ اعتراض پر کھڑے ہوئے اور کہا کہ وہ ایک اہم معاملے پر سپیکر کی توجہ مبذول کروانا چاہتے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ پارلیمنٹ لاجز میں داخل ہوں تو وہاں سے چرس کی بدبو آتی ہے اس کے علاوہ ارکانِ پارلیمان کے کمروں میں شراب بھی لائی جاتی ہے ۔

جمشید دستی کا یہ کہنا ہی تھا کہ ہال سے باہر جانے والے ارکانِ پارلیمان واپس اپنی نشستوں پر آگئے اور ان کی باتیں انہماک سے سننے لگے۔

جمشید دستی کا تعلق جنوبی پنجاب کے علاقے ضلع مظفر گڑھ سے ہے اور وہ گذشتہ سال ہونے والے عام انتخابات میں آزاد حیثیت میں کامیاب ہوئے تھے۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ پاکستان پیپلز پارٹی کے گذشتہ دورِ حکومت میں جعلی ڈگری رکھنے کے الزام میں جمشید دستی کی رکنیت منسوخ کر چکی ہے، تاہم بعد ازاں وہ ضمنی انتخابات میں دوبارہ کامیاب ہو گئے تھے۔

جمشید دستی نے یہ بھی بتا دیا کہ پارلیمنٹ لاجز میں چار سے پانچ کروڑ روپے کی سالانہ شراب لائی جاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بات صرف یہی تک ہی محدود نہیں رہی بلکہ پارلمیان لاجز دیگر غیر اخلاقی حرکات بھی ہوتی ہیں اور ارکانِ پارلیمان کے کمروں میں ’مجرے‘ بھی ہوتے ہیں۔

قومی اسمبلی کی کارروائی کی پریزائڈنگ افسر اور جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمن گروپ) سے تعلق رکھنے والی رکنِ قومی اسمبلی نعیمہ کشور نے جمشید دستی کا مائیک بند کر دیا اور کہا کہ اگر ان کے پاس کوئی ثبوت ہے تو وہ قومی اسمبلی کے سپیکر کو پیش کریں۔

سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے جمشید دستی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے پاس کوئی ثبوت ہیں تو وہ پیش کریں اور اگر اس میں کوئی ملوث پایا گیا تو اُس کے خلاف کارروائی کی جائے گی، چاہے اُس کا تعلق حکومتی بینچوں سے ہی کیوں نہ ہو۔

سپیکر قومی اسمبلی نے جمشید دستی کو کہا کہ اگر وہ اس الزام کو ثابت نہ کر سکے تو پھر ان کے خلاف کارروائی کا فیصلہ ایوان ہی کرے گا۔ تاہم جمشید دستی اپنے اس دعوے پر قائم تھے کہ اُن کے پاس پارلیمنٹ لاجز میں ہونے والے مجرے کی ویڈیو بھی موجود ہے۔

ایاز صادق نے کہا کہ قومی اسمبلی سیکریٹیریٹ میں پارلیمنٹ لاجز کی ایک ماہ کی ریکارڈنگ موجود ہے اور اس ضمن میں اس سے مدد بھی لی جائے گی۔

اجلاس کے دوران کسی بھی رکنِ اسمبلی نے جمشید دستی کے الزامات کا جواب نہیں دیا لیکن پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے ارکانِ پارلیمنٹ نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما مولا بخش چانڈیو کا کہنا تھا کہ وہ بھی پارلیمنٹ لاجز میں قیام پذیر ہیں لیکن انھوں نے وہاں پر کسی کو بھی شراب پی کر غل غپاڑہ کرتے نہیں دیکھا۔

اُنھوں نے کہا کہ دوسروں کے کمروں میں جھانکنا ارکانِ پارلیمان کو زیب نہیں دیتا۔

متحدہ قومی موومنٹ سے تعلق رکھنے والے نبیل گبول کا کہنا تھا کہ اگر پارلیمنٹ لاجز میں ایسا ہو رہا ہے تو سپیکر کو اس کا نوٹس لیتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔

اسی بارے میں