حملہ ہوا تو شدت پسندوں کے مرکز پر جوابی کارروائی ہوگی: چوہدری نثار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چوہدری نثار نے ایک بار پھر تسلیم کیا کہ ملک کی 26 سکیورٹی ایجنسیوں میں رابطوں کا فقدان ہے

پاکستان کے وفاقی وزیرِداخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ اس وقت حکومت کی ترجیح مذاکرات ہی ہیں لیکن شدت پسندوں کے حملوں کے بعد حکومت کو پالیسی تبدیل کرنا پڑی ہے اور اب کسی بھی حملے کا جواب شدت پسندوں کے مرکز پر کارروائی سے دیا جائے گا۔

پشاور میں صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ اور گورنر سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ داخلہ نے کہا کہ گذشتہ چند گھٹنوں کے دوران نہایت اہم فیصلے ہوئے ہیں جن کا اعلان آئندہ چند روز میں کیا جائے گا اور وزیرِاعظم تمام وزرائے اعلیٰ کو مشاورت کے لیے اسلام آباد بھی بلائیں گے۔

چوہدری نثار نے کہا کہ حکومت نے پالیسی تبدیلی کی ہے یا یوں کہیے کہ حکومت ایک نئی پالیسی لائی ہے۔

’حکومت نے دس سال کے تجربے کے بعد ایک اور پالیسی دی ہے، اگر مذاکرات کی پرخلوص کوشش کے باوجود اگر کراچی یا کوئٹہ میں تشدد کی کارروائی ہوتی ہے تو اس کا جواب اس مرکز میں دیا جائے گا جہاں سے یہ ہوتی ہے۔‘

وزیرداخلہ نے کہا کہ حکومت نے چھ ماہ میں قومی سلامتی پالیسی تیار کی جو باقی ممالک میں سالہاسال کی کاوشوں سے تیار ہوتی ہے۔

وزیرداخلہ کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے مذاکرات کی پرخلوص کوشش میں تمام سیاسی جماعتیں ساتھ تھیں: ’ٹوئٹر اور فیس بک پر سیاسی جماعتیں جو بھی کہیں، کل جماعتی کانفرنس میں تمام سیاسی جماعتوں نے حکومت کے ساتھ اتفاق رائے کیا تھا۔‘

وزیرداخلہ نے کہا کہ حکومت مذاکرات کے لیے آگے بڑھنے والوں کے ساتھ بات چیت کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اس وقت ہم ان گروپوں کو دیکھ رہے ہیں جو ہم سےگذشتہ چند مہینوں میں ہم سے رابطے میں تھے اور وہ کہہ چکے ہیں کہ وہ پاکستان مخالف نہیں اور نہ ہی انھوں نے پاکستان کے خلاف کاروائیاں کی ہیں۔‘

چوہدری نثار نے ایک بار پھر تسلیم کیا کہ ملک کی 26 سکیورٹی ایجنسیوں میں رابطوں کا فقدان ہے۔

اسی بارے میں