ایران کی سرحد کے قریب سے گیارہ غیر ملکی گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ایران نے دھمکی دی تھی کہ وہ اپنے محافظوں کی بازیابی کے لیے پاکستانی کی سرحدی حدود میں کارروائی کر سکتا ہے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ایران کی سرحد سے متصل ضلع کیچ سے فرنٹیئر کور نے گیارہ غیر ملکی افراد کو گرفتار کرکے ان سے اسلحہ بر آمد کر لیا ہے۔

کوئٹہ میں ایف سی کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ ایف سی نے ایرانی سرحدی محافظوں کی بازیابی کے لیے چھاپا مارا جس کے دوران ان غیر ملکیوں کوگرفتار کیا گیا۔

یاد رہے کہ پانچ ایرانی محافظوں کو ایران کے سیستان بلوچستان کے علاقے سے اغوا کیا گیا تھا اور ان کی تلاش کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

ایرانی حکام نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ مغوی اہلکاروں کو پاکستان کے سرحدی علاقوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

کوئٹہ میں دونوں ممالک کے مشترکہ سرحدی کمیشن کے اجلاس میں پاکستانی حکام نے یہ یقین دہانی کرائی تھی اگر اہلکا ر پاکستانی حدود میں ہوئے تو ان کی بازیابی کے لیے ہر ممکن تعاون کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق ایف سی نے خفیہ اطلاع پر کیچ کے ضلعی ہیڈ کوارٹر تربت میں اوورسیز کالونی پر چھاپہ مارا جس کے دوران یہ 11 غیر ملکی گرفتار ہوئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پانچ ایرانی محافظوں کو ایران کے سیستان بلوچستان کے علاقے سے اغوا کیا گیا تھا اور ان کی تلاش کے لیے کوششیں جاری ہیں

ایف سی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ غیر ملکیوں کے قبضے سے چار ایس ایم جیز اور ایک راکٹ لانچر کے علاوہ راکٹ کے گولے بھی بر آمد کیے گئے۔

گرفتار شدہ افراد میں سے صرف تین غیر ملکیوں کی اب تک شناخت ہو سکی ہے جن میں سے دو کا تعلق تنزانیہ جبکہ ایک کا تعلق یمن سے ہے۔

شناخت کیے جانے والے دو غیر ملکیوں کا تعلق تنزانیہ جبکہ ایک کا تعلق یمن سے ہے۔

ایف سی کے ذرائع کے مطابق گرفتار کیے جانے والے باقی آٹھ افراد کی شناخت کا سلسلہ جاری ہے تاہم بعض دیگر ذرائع کا دعویٰ ہے گرفتار ہونے والے باقی آٹھ افراد ایرانی ہیں۔

ان ذرائع کا کہنا ہے کہ تنزانیہ اور یمن سے تعلق رکھنے والے افراد کو منشیات کے سمگلروں نے یرغمال بنا رکھا تھا۔

اسی بارے میں