خیبر ایجنسی: پولیو ٹیم پر حملہ، سکیورٹی پر مامور 13 اہلکار ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مرنے والوں میں باڑہ اور جمرود تحصیلوں کے لائن افیسرز بھی شامل ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ پولیو کارکنوں کو سکیورٹی فراہم کرنے والے اہلکاروں پر یکے بعد دیگرے دو بم حملوں میں تیرہ اہلکار ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے ہیں۔ زخمیوں میں پولیو ورکررز بھی شامل ہیں۔

خیبرایجنسی کی پولیٹکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ دھماکے سنیچر کی صبح تحصیل جمرود کے دور افتادہ علاقے لاشوڑہ میں ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ خاصہ دار فورس کے اہلکار انسداد پولیو کی ٹیموں کو اپنی حفاظت میں قافلے کی صورت میں لے کر جارہے تھے کہ اس دوران ان کی گاڑیوں کو سڑک کے کنارے بم حملے سے نشانہ بنایا گیا۔

اہلکار کے مطابق پہلے دھماکے کی اطلاع ملتے ہی خاصہ دار فورس کی ایک اور گاڑی امداد کےلیے جب حملے کے مقام کے قریب پہنچی تو اس دوران ایک اور دھماکہ ہوگیا۔

ہلاک ہونے والوں میں باڑہ اور جمرود تحصیلوں کے لائن آفیسرز بھی شامل ہیں۔

اہلکار نے مزید بتایا کہ دھماکوں میں سکیورٹی اہلکاروں کی دونوں گاڑیاں مکمل طورپر تباہ ہوگئی ہیں۔ زخمیوں کو پشاور اور جمرود کے ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے جن میں بعض کی حالت تشویش ناک ہے۔

مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں ایک بچہ بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ نقصان دوسرے دھماکے میں ہوا اور بظاہر لگتا ہے کہ دونوں دھماکے ریمورٹ کنٹرول سے کئے گئے۔

انہوں نے کہا کہ دھماکوں کے بعد پولیو کارکنوں نے قریبی گھروں میں پناہ لے لی تاہم بعد میں سکیورٹی اہلکاروں نے انہیں اپنی تحویل میں لے لیا۔

خیال رہے کہ خیبر ایجنسی میں پولیو وکرروں پر اس سے پہلے بھی حملے ہوچکے ہیں۔ یہ دھماکے ایسے وقت ہوئے ہیں جب سکیورٹی فورسز نے گذشتہ چند دنوں کے دوران خیبر ایجنسی میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو دو مرتبہ فضائی حملوں میں نشانہ بنایا ہے۔

اسی بارے میں