’پہلے کسی نے توجہ نہیں دی اور پھر انہوں نے چادریں اتاریں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption عینی شاہد زمرد شاہ ایڈووکیٹ کا کہناہے کہ جب حملہ آور باتیں کر رہے تھے تو کسی نے بھی نوٹس نہیں لیا

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ تین بڑی گاڑیاں وفاقی دارالحکومت کے سیکٹر ایف ایٹ مرکز کی مارکیٹ میں واقع کچہری میں اُس طرف سے داخل ہوئیں جس طرف بخشی خانہ ہے اور ان گاڑیوں میں آٹھ افراد سوار تھے۔

پولیس کے مطابق بیس سے پچیس سال کی عمروں کے یہ مسلح افراد اُس سمت سے کچہری ضلعی عدالتوں میں داخل ہوئے جہاں پر بظاہر پولیس کی نفری تو موجود ہوتی ہے۔ وہاں موجود بخشی خانے میں مختلف عدالتوں میں پیش کیے جانے والے قیدیوں کو رکھا جاتا ہے لیکن وہاں سے کچہری کے اندرآنے جانے والے کو چیک نہیں کیا جاتا۔

پتلون شرٹ ایک 25 سالہ نوجوان کچھ بات پشتو میں اور کچھ اردو میں کر رہا تھا اور اپنے ساتھیوں کو ہدایات دے رہا تھا کہ فلاں جگہ کون جائے گا اور کس کس کو ہدف بنانا ہے۔

عینی شاہد محمد نذیر کے مطابق حملہ آوروں نے لمبے لمبے بال رکھے ہوئے تھے اور اُن کی چھوٹی چھوٹی داڑھیاں تھیں۔

عینی شاہد زمرد شاہ ایڈووکیٹ کا کہناہے کہ جب حملہ آور باتیں کر رہے تھے تو کسی نے بھی نوٹس نہیں لیا۔

’جونہی اُنھوں نے چادریں ہٹا کر یہ نعرہ لگایا کہ ’کوئی بچ کے نہ جائے‘ اور اُس کے بعد کلاشنکوف سے فائرنگ کرنا شروع کی تو پھر پوری کچہری میں بھگدڑ مچ گئی۔‘

اُنھوں نے کہا کہ جہاں جج اپنے چیمبر میں گھس رہے تھے وہیں وکلا برادری اور سائلین کے ساتھ اپنی جان بچانے میں مصروف تھے۔

’بھاگنے والوں میں سب سے آگے پولیس اہلکار تھے۔ اس کارروائی سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حملہ آوروں نے پہلے اس علاقے کی ریکی کی جس کے بعد حملے کی منصوبہ بندی کی۔‘

پولیس کے مطابق ایڈیشنل سیشن جج رفاقت اعوان کو ٹارگٹ کرکے مارا گیا ہے کیونکہ حملہ آور ان کے چیمبر میں داخل ہوئے اور وہاں اُن کو فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا۔ رفاقت حسین کی عدالت کے ساتھ دو سول ججوں کی عدالتیں بھی تھیں اور وہ جج صاحبان اپنی عدالتوں میں موجود تھے تاہم خوش قسمتی سے وہ بچ گئے۔

ذرائع کے مطابق ان حملہ آوروں کے پاسکلاشنکوفیں تھیں جبکہ پولیس اُن پر پستولوں سے فائرنگ کر رہی تھی۔ ملزمان کے دیگر ساتھی وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے اور پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وہ قریبی علاقوں میں ہی چھپے ہوئے ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق عمومی طور پر دو سو سے زائد پولیس اہلکار ہر وقت ضلع کچہری میں موجود ہوتے ہیں اور اس کے علاوہ خفیہ اداروں کے اہلکاروں کی موجودگی بھی ضرور ہوتی ہے۔ لیکن پیر کے روز ہونے والے واقعے کے دوران ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جیسے یہاں پر پولیس اہلکار کبھی تعینات ہی نہیں تھے۔

متعقلہ تھانے کے انچارج خالد محمود کا کہنا ہے کہ وکیل ہارون الرشید کے چیمبر کے قریب پولیس کی فائرنگ سے ایک حملہ آور نیچے گرا جس کے فوری بعد اُس نے خود کو دھماکے سے اُڑا دیا۔

ذرائع کے مطابق چند روز قبل خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے اسلام آباد کے حکام کو رپورٹ دی تھی کہ ضلع کچہری میں لگائے گئے سکینرز کام نہیں کر رہے جس کی وجہ سے شدت پسندی کا خطرہ ہے۔ اس بارے میں مقامی پولیس کا موقف ہے کہ اس طرح کی رپورٹیں معمول کی کارروائی ہیں۔

اس واقعے کے بعد راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کی عدالتوں میں لے کر آنے والے قیدیوں کو راستے میں ہی روک دیا گیا۔ بعدازاں اُنھیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔

اسلام آباد کی ضلعی عدالتیں دکانوں میں لگی ہوئی ہیں اور کچھ عرصے قبل تک پولیس افسران کے دفاتر بھی انھی دکانوں میں موجود تھے اور اُن کی موجودگی میں پولیس اہلکار سینکڑوں کی تعداد میں تعینات ہوتے تھے۔ لیکن اُن کے دفاتر دوسری جگہ پر منقتل ہونے کے بعد ضلع کچہری میں سکیورٹی کے انتظامات کم کر دیے گئے ہیں۔

یاد رہے کہ چند روز قبل نیشنل کرائسز مینجمینٹ کی طرف سے پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی میں ایک رپورٹ پیش کی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ اسلام آباد پاکستان کے غیر محفوظ ترین شہروں میں سے ایک ہے۔ تاہم وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اس کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ اسلام آباد میں فول پروف سکیورٹی کے انتظامات کیے گئے ہیں۔

حکومت نے پاک سیکریٹیریٹ اور دیگر سرکاری اداروں کو کچھ حد تک محفوظ تو بنا لیا ہے جبکہ ضلع کچہری جیسے پبلک مقامات کو محفوظ بنانے کے لے خاطر خواہ انتظامات نہیں کیے گئے۔

اسی بارے میں