ہنگو: ایف سی کے قافلے پر حملہ، چھ ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ہنگو میں دو ہفتے قبل شدت پسندوں کی جانب سے ممکنہ حملے کی اطلاع پر کارروائی بھی کی گئی تھی جس میں چھ شدت پسند مارے گئے تھے

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں حکام کے مطابق ضلع ہنگو کے سرحدی علاقے میں ایف سی کے قافلے پر ہونے والے حملے ہلاکتوں کی تعداد چھ ہو گئی ہے جبکہ آٹھ اہلکار زخمی ہیں جبکہ خیبر ایجنسی سے دو افراد کی لاشیں ملی ہیں۔

پشاور میں ایک اعلیٰ فوجی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ بدھ کی صبح سینٹرل کرم ایجنسی کے علاقے میں پیش آیا۔

انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کا ایک قافلہ ہنگو سے مناتو جارہا تھا کہ ورمیگی کے علاقے میں ان کی ایک گاڑی کو ریموٹ کنٹرول بم حملے کا نشانہ بنایا گیا۔

ان کے مطابق حملے میں تین اہلکار موقعے ہلاک اور دس زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو ٹل شہر منتقل کیا گیا ہے جن میں سے تین زحموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گئے۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ مرنے والے اہلکاروں کا تعلق فرنٹیئر کور سے ہے۔ ابھی تک کسی تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

خیال رہے کہ ورمیگی کا علاقہ وسطی کرم کے مرکز صدہ سے تقریباً 20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس علاقے میں خویداد خیل قبیلے کے افراد آباد ہیں۔

یہ علاقہ اورکزئی ایجنسی اور ضلع ہنگو کے سرحد کے قریب بھی پڑتا ہے۔

یاد رہے کہ ہنگو میں 22 فروری کو سکیورٹی فورسز کے گن شپ ہیلی کاپٹروں نے مشتبہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر شیلنگ کی تھی جس میں کم سے کم چھ شدت پسند مارے گئے تھے۔

یہ کارروائی ہنگو اور اورکزئی ایجنسی کے سرحدی علاقے تورہ اوڑی میں کی گئی تھی۔ یہ علاقہ قبائلی علاقے اورکزئی اور کرم ایجنسی کے سنگم پر واقع ہے۔ یہاں کچھ علاقے بندوبستی علاقوں میں شامل ہیں لیکن جرائم پیشہ اور شدت پسند عناصر کے مراکز ہونے کی وجہ سے یہ مقامات پولیس کے لیے ’نوگو ایریا‘ سمجھے جاتے ہیں۔

خیبر ایجنسی سے لاشیں برآمد

ادھر خیبر ایجنسی کے علاقے جمرود میں شاکس کے مقام سے دو افراد کی بوری بند لاشیں ملی ہیں۔ مقامی اہلکاروں نے بتایا کہ دونوں افراد پشاور کے رہائشی تھے۔ ایک کی شناخت بہار علی اور دوسرے کی پرویز کے نام سے ہوئی ہے ۔ دونوں افراد کے بارے میں مزید تفصیلات حاصل کی جا رہی ہیں۔

شاکس کا علاقہ پشاور کے قریب واقع ہے ۔ مقامی اہلکاروں کے مطابق دونوں افراد کو فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا ہے ۔ بہار علی متھرا کے رہائشی اور پرویز شاہین ٹاؤن کے رہائشی بتائے گئے ہیں۔

پشاور اور اس کے مضافاتی علاقوں سے کچھ عرصہ پہلے بڑی تعداد میں بوری بند لاشیں ملنا شروع ہو گئی تھی۔ پشاور ہائی کورٹ نے اس پر ازخود نوٹس بھی لیا تھا جس کے بعد لاشیں ملنے کا سلسلہ رک گیا تھا۔

اسی بارے میں