خیبرپختونخوا: حملوں میں دو افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پشاور میں پہلے بھی پولیس اہلکاروں کو دن دہاڑے شہری مقامات پر ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا ہے جس میں اب تک درجنوں اہلکار مارے جاچکے ہیں

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور اور ضلع چارسدہ میں بم دھماکے اور پولیس اہلکار پر ہونے والے حملوں دو افراد ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا ہے۔

پولیس کے مطابق پہلا واقعہ بدھ کی صبح پشاور کے علاقے یکہ توت میں اس وقت پیش آیا جب پولیس لائن میں تعینات ایک پولیس اہلکار پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی جس سے وہ موقع ہی پر ہلاک ہوگئے۔

یکہ توت پولیس سٹیشن کے اہلکار عصمت نے بی بی سی کو بتایا کہ مقتول اہلکار ابن حسن علی پولیس لائن میں ٹیلی کمیونیکشن کے شعبے سے منسلک تھے۔ انہوں نے کہا کہ مرنے والے پولیس اہلکار کا تعلق شیعہ مسلک سے بتایا گیا ہے۔

پشاور میں اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ پولیس اہلکاروں کو دن دہاڑے شہری مقامات پر ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا ہے جس میں اب تک درجنوں اہلکار مارے جاچکے ہیں۔

ادھر دوسری طرف ضلع چارسدہ میں ہونے والے ایک بم دھماکے میں ایک شخص ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا ہے۔

چارسدہ کے ضلعی پولیس سربراہ شفیع اللہ خان کے مطابق یہ دھماکہ قبائلی علاقے کے سرحد سے متصل چارسدہ کے ایک دورافتادہ علاقے سپینکئی صلے میں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ بظاہر لگتا ہے کہ دھماکہ خیز مواد سڑک کے کنارے رکھا گیا تھا جس کے پھٹنے سے ایک شخص ہلاک اور ایک زخمی ہوا۔ تاہم دھماکے کی وجہ فوری طورپر معلوم نہیں ہوسکی۔

اسی بارے میں