’حکومت کوشش کرے گی کہ آپریشن کی نوبت نہ آئے‘

تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption مولانا سمیع الحق نے کہا ہے کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ مقتدر قوتیں بھی کمیٹیوں میں شامل ہوں

پاکستان میں قیامِ امن کے لیے حکومت سے مذاکرات کرنے والی طالبان کی نمائندہ کمیٹی کے رکن مولانا سمیع الحق نے کہا ہے کہ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک کی ’مقتدر قوتیں‘ مذاکراتی عمل کا حصہ بنیں۔

یہ بات انہوں نے اسلام آباد میں آج وزیراعظم میاں محمد نواز شریف سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ یہ پہلا موقع ہے کہ طالبان کمیٹی کے اراکین نے وزیراعظم سے ملاقات کی ہے۔اس ملاقات میں حکومتی کمیٹی کے چاروں اراکین اور وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان بھی موجود تھے۔

مولانا سمیع الحق نے کہا کہ وزیرِ اعظم نے انہیں اس بات کی یقین دہانی کروائی کہ حکومت پوری کوشش کرے گی کہ آپریشن کی نوبت نہ آئے۔

مولانا سمیع الحق کا کہنا تھا کہ ’مقتدر قوتوں اور بااختیار‘ عناصر اگر مذاکراتی کمیٹی کا حصہ بن جائیں تو ہمیں اس سے بہت فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا چند ایسے معاملات ہیں جن میں ان قوتوں کی مدد کے بغیر پیش رفت نہیں ہو سکتی جیسے کہ قیدیوں کے تبادلے کا مسئلہ، فوج سے کچھ علاقوں سے واپس کا معاملہ اور حکومت کی جانب سے نقصان کے سلسلے میں معاوضے کی ادائیگی کا معاملہ۔

’مذاکرات رابطہ کاری کے بعد فیصلہ سازی کے مرحلے میں‘

انہوں نے بتایا کہ مذاکراتی عمل کے لیے کمیٹیاں یہی رہیں گی اور طالبان کمیٹی آئندہ کے لائحہ عمل پر کام کر رہی ہے۔ اس قبل گذشتہ شب مقامی میڈیا میں اس بات کا امکان ظاہر کیا جا رہا تھا کہ مذاکراتی عمل کے دوسرے مرحلہ میں موجودہ کمیٹیوں کو تحلیل کر دیا جائے گا۔

مولانا سمیع الحق نے بتایا کہ ہو سکتا ہے وہ چند وضاحتوں کے لیے آئندہ ایک دو روز میں وزیرستان جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کی نشادہد کرنا ضروری ہے کہ مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کون کر رہا ہے۔

وزیراعظم کے ساتھ ملاقات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ تمام شرکا نے مذاکراتی عمل جاری رکھے پر اتفاق کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ’مقتدر قوتوں اور بااختیار‘ عناصر اگر مذاکراتی کمیٹی کا حصہ بن جائیں تو ہمیں اس سے بہت فائدہ ہوگا: سمیع الحق

اس سے قبل حکومت کی مذاکراتی کمیٹی کے رکن اور سینیئر صحافی رحیم اللہ یوسفزئی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ طالبان کی نمائندہ کمیٹی نے کافی عرصہ قبل یہ خواہش ظاہر کی تھی کہ وہ وزیراعظم سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں تاکہ امن مذاکرات کے لیے ان کے اور حکومت کے عزم کو جاننے کی کوشش کریں۔

رحیم اللہ یوسفزئی نے اس بات کا قوی امکان ظاہر کیا کہ اس ملاقات کے بعد حکومت کی مذاکراتی کمیٹی تحلیل کر کے حکومت اور فوج کے نمائندوں پر مشتمل ایک نئی کمیٹی بنائی جا سکتی ہے جسے براہِ راست طالبان سے مذاکرات کی ذمہ داری سونپی جائے گی۔

بی بی سی اردو کے پروگرام جہاں نما میں نامہ نگار سارہ حسن سے بات کرتے ہوئے ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومتی کمیٹی کو روابط قائم کرنے کا جو کام سونپا گیا تھا وہ کامیابی سے مکمل ہوگیا ہے اور اب اصل فریقین میں براہ ِراست رابطے ہونے چاہییں۔

حکومتی کمیٹی کی تحلیل یا اس میں ردوبدل کے معاملے پر بات کرتے ہوئے رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا تھا کہ ’ہم رابطہ کار تھے اور ہم نے رابطے بنائے اور انھیں مضبوط کیا۔ پھر مذاکرات شروع بھی ہوگئے اور ہم نے جو باتیں کی تھیں کہ وہ مقاصد بھی ایک حد تک حاصل ہوگئے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ سب چاہتے ہیں کہ مذاکراتی عمل جلد آگے بڑھے اور اس میں کوئی رکاوٹ نہ آئے اور یہ موثر ہو۔

رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا تھا کہ ابھی اصل فریقین کا آپس میں رابطہ نہیں ہوا ہے: ’ایک طرف حکومت اور اس کے ادارے ہیں جن میں فوج بھی شامل ہیں اور ایجنسیاں بھپی ہیں اور پھر اس طرف تحریکِ طالبان کی شوریٰ ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ ان میں براہِ راست رابطے ہونے چاہییں‘۔

انھوں نے بتایا کہ ’ہم نے پیشکش کی ہے کہ ہماری کمیٹی تحلیل کر دی جائے یا اسے مضبوط بنایا جائے۔ اس لیے کہ اب وہ مرحلہ آ گیا ہے جب دونوں فریق مطالبات بھی کریں گے، انھیں مانیں گے یا ان سے انکار کریں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’بہتر ہوگا کہ سرکاری مذاکرات کاروں کی کمیٹی کو تحلیل کر کے ایک نئی کمیٹی بنائی جائے جس میں حکومت کے لوگ، خصوصاً پاکستان کی فوج اور آئی ایس آئی کے نمائندے ہوں۔‘

انھوں نے بتایا کہ حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ وہ اس تجویز پر غور کرےگی۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ ’یہ کام جلد ہی ہوگا اور ممکن ہے کہ جمعرات کو ہونے والی ملاقات میں یہ امور طے پا جائیں۔‘

رحیم اللہ یوسفزئی کا یہ بھی کہنا تھا کہ فوج کے نمائندوں کی مذاکرات میں شمولیت سے یہ تاثر دور کرنے میں بھی مدد ملے گی کہ فوج اس پورے عمل میں حکومت سے اختلاف رکھتی ہے اور ’یہ ہم آہنگی کی بات ہوگی کہ فوج اور حکومت ایک ہی سوچ رکھتی ہے۔‘

خیال رہے کہ حکومت اور طالبان کی مذاکراتی کمیٹیوں کے سربراہان نے بدھ کو کہا تھا کہ مذاکرات ’اب رابطہ کاری سے نکل کر دوسرے مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں جو فیصلہ سازی کا مرحلہ ہے۔‘

طالبان کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق کے ہمراہ اکوڑہ خٹک میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے حکومتی کمیٹی کے رابطہ کار عرفان صدیقی نے بتایا تھا کہ اب اس نئے مرحلے کے لیے مذاکراتی عمل کو موثر، فعال اور نتیجہ خیز بنانے کے بارے میں بات ہوئی ہے۔

اس موقع پر طالبان کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے کہا تھا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ مقتدر قوتیں بھی کمیٹیوں میں شامل ہوں۔

یاد رہے کہ پاکستان میں مسلم لیگ ن کی حکومت نے گذشتہ سال برسرِاقتدار آنے کے بعد ملک میں امن قائم کرنے کے سلسلے میں تحریکِ طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات کرنے کی پالیسی اختیار کی تھی تاہم مذاکرات کا عمل ابتدائی مراحل میں ہی پٹری سے اس وقت اتر گیا تھا جب تحریکِ طالبان کے ایک ذیلی گروپ نے تحریکِ طالبان مہمند ایجنسی نے ایف سی کے ان 23 اہلکاروں کو قتل کر دیا جنہیں جون 2010 میں اغوا کیا گیا تھا۔

طالبان کی جانب سے حملے جاری رہنے کی صورت میں حکومت نے مذاکرات کو بے معنی قرار دے دیا تھا اورطالبان سے غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا۔

اس پر یکم مارچ کو تحریکِ طالبان پاکستان نے اعلان کیا تھا کہ وہ ملک کے اکابرین، علمائے کرام کی اپیل، طالبان کمیٹی کے احترام اور اسلام اور ملک کے مفاد میں ایک مہینے کے لیے جنگ بندی کا اعلان کرتے ہیں۔

تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے ایک ماہ کی جنگ بندی کے جواب میں حکومتِ پاکستان نے طالبان کے خلاف جاری فضائی کارروائی معطل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

اسی بارے میں