’طالبان سے مذاکرات میں فوج کو بھی شامل کریں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مذاکرات کے لیے بنائی گئی سرکاری کمیٹی کی کچھ خاص ضرورت باقی نہیں رہ گئی: عرفان صدیقی

طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے بنائی گئی سرکاری کمیٹی کے رکن عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ کمیٹی نے فوج کے نمائندے کو طالبان کے ساتھ مذاکرات کے عمل میں شامل کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔

عرفان صدیقی نے کہا کہ انھوں نے وزیراعظم کے ساتھ آج ہونے والی ملاقات میں یہ تجویز متفقہ طور پر کمیٹی کی جانب سے پیش کی۔

انھوں نے کہا: ’مذاکرات اب ایسے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں کہ اب بڑے فیصلوں کی ضرورت ہے۔ ایسے میں ان لوگوں کو مذاکرات میں شامل ہونا چاہیے جو اس معاملے میں سٹیک ہولڈر اور فیصلے کرنے کے مجاز ہیں۔‘

عرفان صدیقی نے کہا کہ مذاکرات کے لیے بنائی گئی سرکاری کمیٹی کی کچھ خاص ضرورت باقی نہیں رہ گئی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے فیصلہ ہونے تک یہ کمیٹی قائم رہے گی۔

عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے دوران اب قیدیوں کی رہائی یا بعض علاقوں سے فوجوں کے انخلا جیسے معاملات زیر بحث آنے والے ہیں جن پر موجودہ کمیٹی فیصلہ کرنے کی مجاز نہیں ہے۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ کیا آپ یہ تجویز پیش کر رہے ہیں کہ فوج براہِ راست طالبان کے ساتھ مذاکرات کرے، تو عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ کمیٹی نے یہی تجویز وزیراعظم کو پیش کی ہے۔

’اب یہ بات سب کی سمجھ میں آ رہی ہے کہ فوج کو اس عمل میں شامل کیے بغیر نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے۔‘

اس مذاکراتی عمل کی تکمیل میں کتنا وقت لگ سکتا ہے، اس سوال کے جواب میں عرفان صدیقی نے کہا کہ طالبان نے جنگ بندی ایک ماہ کے لیے کی تھی لیکن اس میں میں 15 دن یا ایک ماہ کی توسیع بھی ممکن ہے۔

اس سے قبل طالبان کی نمائندہ کمیٹی کے رکن مولانا سمیع الحق نے کہا تھا کہ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک کی ’مقتدر قوتیں‘ مذاکراتی عمل کا حصہ بنیں۔

مولانا سمیع الحق نے کہا کہ وزیرِ اعظم نے انھیں اس بات کی یقین دہانی کروائی ہے کہ حکومت پوری کوشش کرے گی کہ آپریشن کی نوبت نہ آئے۔

مولانا سمیع الحق کا کہنا تھا ’مقتدر قوتوں اور بااختیار‘ عناصر اگر مذاکراتی کمیٹی کا حصہ بن جائیں تو ہمیں اس سے بہت فائدہ ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ چند ایسے معاملات ہیں جن میں ان قوتوں کی مدد کے بغیر پیش رفت نہیں ہو سکتی جیسے کہ قیدیوں کے تبادلے کا مسئلہ، فوج سے کچھ علاقوں سے واپسی کا معاملہ اور حکومت کی جانب سے نقصان کے سلسلے میں معاوضے کی ادائیگی کا معاملہ۔

پاکستان میں مسلم لیگ ن کی حکومت نے گذشتہ سال برسرِاقتدار آنے کے بعد ملک میں امن قائم کرنے کے سلسلے میں تحریکِ طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات کرنے کی پالیسی اختیار کی تھی، تاہم مذاکرات کا عمل ابتدائی مراحل میں ہی پٹری سے اس وقت اتر گیا تھا جب تحریکِ طالبان کے ایک ذیلی گروپ تحریکِ طالبان مہمند ایجنسی نے ایف سی کے ان 23 اہلکاروں کو قتل کر دیا جنھیں جون 2010 میں اغوا کیا گیا تھا۔

طالبان کی جانب سے حملے جاری رہنے کی صورت میں حکومت نے مذاکرات کو بے معنی قرار دے دیا تھا اورطالبان سے غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا۔

اس پر یکم مارچ کو تحریکِ طالبان پاکستان نے اعلان کیا تھا کہ وہ ایک مہینے کے لیے جنگ بندی کا اعلان کرتے ہیں۔

تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے ایک ماہ کی جنگ بندی کے جواب میں حکومتِ پاکستان نے طالبان کے خلاف جاری فضائی کارروائی معطل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

اسی بارے میں