تھر میں قحط سالی ہے اور شدید سردی سے اضافہ ہوا: حکومتِ سندھ

Image caption ظاہر ہے جب ماں غذائی قلت کی وجہ سے کمزور ہوگی تو بچہ بھی کمزور ہوگا: وزیر اعلیٰ سندھ

حکومتِ سندھ نے تسلیم کیا ہے کہ تھر میں قحط سالی ہے اور شدید سردیوں نے اس کی شدت میں اضافہ کیا اور اعلان کیا ہے کہ حکومت ایک ہفتے میں تمام متاثرین تک پہنچے گی۔

وزیراعلیٰ سید قائم علی شاھ نے مٹھی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تھر میں حالیہ قحط سالی افسوسناک ہے جس کی بنیادی وجہ خشک سالی ہے۔

’لیکن اس صورتحال کو کہیں زیادہ بڑھا چڑھا کر بیان کیا گیا ہے۔ ہمیں اس بات کا اعتراف کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے کہ کچھ کوتاہیاں حکومت کی جانب سے بھی ہوئی ہیں اور بہت جلد اس کی تحقیقات کرائی جائیں گی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ میڈیا میں 121 بچوں کی ہلاکت کی خبریں آرہی ہیں لیکن وہ کسی تنازعے میں نہیں جانا چاہتے جو بھی جانی نقصان ہوا ہے اس پر انہیں افسوس ہے۔

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ انہیں ڈاکٹروں نے بتایا ہے کہ بچوں کی موت غذائی قلت کی وجہ سے ہوئی ہے۔ ’ظاہر ہے جب ماں غذائی قلت کی وجہ سے کمزور ہوگی تو بچہ بھی کمزور ہوگا۔‘

سید قائم علی شاھ کا کہنا تھا کہ خوراک کی فراہمی کے بعد حکومت کی اولین ترجیح صحت کے مسائل پر قابو پانا ہے، جس کے لیے 14 موبائل ڈسپینسری یونٹ دن رات کام کر رہی ہیں اور ادوایات کے دو ٹرک پہلے ہی تھر میں موجود ہیں۔ ’اس کے علاوہ متاثرہ خاندانوں کو گندم کی فراہمی پچیس کلو گرام سے بڑہاکر پچاس کلو گرام کردی گئی ہے۔‘

دوسری جانب بچوں کی ہلاکت کا سلسلہ جاری ہے۔ ڈیپلو کے گاؤں بھاڈور میں محمد ولد سلیم، ننگر پارکر کے گاؤں ویرانیوں میں انیتا اور چھاچھرو تحصیل کے گاؤں ارنو میں معصوم نصیباں فوت ہوگئی ہیں۔

یاد رہے کہ حکومت کی جانب سے صرف ہپستالوں میں ہلاک ہونے والے بچوں کے اعداد و شمار پیش کیے جا رہے ہیں، جبکہ کئی گاؤں میں ہلاک ہونے والے بچوں کو شمار ہی نہیں کیا گیا۔ حکومت نے ہر خاندان کو دو لاکھ رپے دینے کا اعلان کیا ہے۔

ادھر وزیر اعظم میاں نواز شریف پیر کو مٹھی پہنچ رہے ہیں جہاں وہ متاثرہ مریضوں سے ملاقات کریں گے اور حکام انہیں بریفنگ دیں گے۔

وزیر اعظم کا دورہ

وزیراعظم محمد نواز شریف نے تمام مصروفیات ملتوی کرکے پیر کو تھر کا دورہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے سندھ حکومت کو یقین دھانی کرائی ہے کہ وفاقی حکومت تھر کے قحط زدگان کی بھرپور مدد کرنےکو تیار ہے۔

ہمارے نامہ نگار ایوب ترین نے بتایا کہ بیان کے مطابق اسلام آباد نےایم آئی 17 ہیلی کاپٹرز ہنگامی طور حکومت سندھ کو فراہم کردیے ہیں تاکہ متاثرین کو کو امدادی کیمپوں میں منتقل کیا جاسکے۔

حکومت پنجاب نے بھی لاہور سے تھر کے متاثرین کے لیے امدادی سامان کا ایک قافلہ روانہ کیاہے۔

اسی بارے میں