کچہری حملہ: ’تفتیشی کمیشن بنائیں جس میں پولیس نہ ہو‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption آئی جی اسلام آباد نے عدالت میں اپنی رپورٹ پیش کی جس میں کہا گیا تھا کہ حملے میں دو حملہ آور ملوث تھے

پاکستان کی سپریم کورٹ میں اسلام آباد کچہری پر حملوں کے واقع پر از خود سماعت کے دوران انسپیکٹر جنرل پولیس اسلام آباد اور چیف کمشنر کے بیانات میں تضاد پایا گیا۔

چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے آئی جی کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے سیکریٹری داخلہ کو آزاد تفتیشی کمیشن قائم کرنے کا حکم دیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ پیر کو اسلام آباد کچہری پر حملوں میں ایڈیشنل سیشن جج رفاقت اعوان اور خاتون وکیل سمیت گیارہ افراد ہلاک ہوئے تھے اور درجنوں زخمی۔

پیر کے روز از خود نوٹس کی سماعت کے دوران آئی جی اسلام آباد نے عدالت میں اپنی رپورٹ پیش کی جس میں کہا گیا تھا کہ حملے میں دو حملہ آور ملوث تھے۔ تاہم چیف کمشنر اسلام آباد نے عدالت کو زبانی بتایا کہ دو سے زیادہ حملہ آوروں نے 3 مارچ کو کچہری میں حملہ کیا تھا۔ چیف کمشنر کی رپورٹ کے مطابق 154 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے آئی جی کی رپورٹ کو نامکمل قرار دیتے ہوئے مایوسی کا اظہار کیا اور استفسار کیا کہ آئی جی اور کمشنر کی رپورٹس میں تضاد کیوں ہے؟ انھوں نے پولیس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کیا وجہ تھی کہ جب حملہ ہوا پولیس بھاگنے لگی؟

عدالت میں تین مارچ کے حملے میں ہلاک ہونے والے ایڈیشنل سیشن جج رفاقت اعوان کے ریڈر خالد نون بھی موجود تھے۔

خالد نون نے عدالت کو بتایا کہ انھیں پولیس حراساں کر رہی ہے یہ کہنے کے لیے کہ جج رفاقت اعوان کو ان کے چیمبر میں مارا گیا تھا۔

خالد نون نے اصرار کیا ’جج صاحب کمرے کے باہر ہلاک ہوئے تھے۔ گواہی بدلنے کے لیے ایک اے ایس پی نے مجھ سے بیس گھنٹے تفتیش کی۔‘

چیف جسٹس نے کہا کہ سیاست دانوں کو کیس پر بیان بازی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ اس سے تفتیش متاثر ہوتی ہے اور اس حوالے سے جلد حکم جاری ہوگا۔ انھوں نے سیکریٹری داخلہ کو کچہری حملے کی تفتیش کے لیے آزاد کمیشن کا حکم دیا جس میں پولیس شامل نہیں ہوگی۔

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے وزیرِ داخلہ چودھری نثار نے قومی اسمبلی میں اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اور سیشنز جج رفاقت اعوان حملہ آوروں کے ہاتھوں نہیں بلکہ اپنے ہی محافظ کی گولی سے مارے گئے تھے، جس پر وکلا برادری نے اعتراض کیا تھا۔

از خود نوٹس کی اگلی سماعت سترہ مارچ کو ہوگی۔

اسی بارے میں