’دوسری شادی کےلیےپہلی بیوی سے اجازت کی شرط ختم کریں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Islamic Ideological Council
Image caption ’حکومت کو مسلم فیملی لا میں اصلاح کی ضرورت ہے کیونکہ موجودہ قوانین شریعت کے منافی ہیں‘

اسلامی نظریاتی کونسل نے تجویز کیا ہے کہ ان پاکستانی قوانین میں تبدیلی کی جائے جن کے مطابق کم عمری میں شادی پر پابندی ہے اور کسی مسلمان مرد کو دوسری شادی کے لیے پہلی بیوی سے اجازت لینا لازم ہے۔

اسلامی نظریاتی کونسل ایک آئینی ادارہ ہے جو پارلیمنٹ کو ایسے قوانین میں تبدیلی کا مشورہ دینے کا مجاز ہے جو ان کی نظر میں اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔پاکستانی پارلیمنٹ نے شاذ و نادر ہی اسلامی نظریاتی کونسل کی کسی تجویز پر قانون سازی کی ہے۔

اسلامی نظریاتی کونسل نےمولانا محمد خان شیرانی کی سربراہی میں اسلام آباد میں اپنے دو روزہ اجلاس کے بعد کم عمری میں شادی پر پابندی کو غیر اسلامی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ مسلمان مرد کو دوسری شادی کرنے کے لیے پہلی بیوی کی اجازت درکار نہیں۔ کونسل نے کہا کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق کم عمری کی شادی کی ممانعت نہیں ہے۔

’انسانی کلوننگ، تبدیلی جنس حرام‘

’ریپ انگریزی کا لفظ ہے، میں نہیں جانتا‘

کونسل نے اس سلسلے میں مسلم فیملی لا کو شریعت کے مطابق کرنے کے لیے ترمیم کی سفارش کی ہے۔

اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ مولانا محمد خان شیرانی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے پیر کے روز کہا تھا کہ مردوں کو دوسری شادی سے قبل اپنی پہلی بیوی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔

مولانا شیرانی کا کہنا تھا کہ حکومت کو مسلم فیملی لا میں اصلاح کی ضرورت ہے کیونکہ موجودہ قوانین شریعت کے منافی ہیں۔

’شریعت اجازت دیتی ہے کہ کوئی شخص ایک سے زیادہ شادی کرسکتا ہے اور ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت اس قانون میں ترمیم کرے۔‘

پاکستان میں نکاح اور طلاق سے متعلق قوانین کو مسلم فیملی لا کہا جاتا ہے جو انیس سو اکسٹھ میں آرڈیننس کی شکل میں نافذ ہوا تھا۔

قوانین کے مطابق کسی بھی شخص کو دوسری شادی کرنے کے لیے اپنی پہلی بیوی سے اجازت لینا لازمی ہے۔

پاکستانی قوانین میں یہ لازمی ہے کہ کوئی بھی شخص اگر دوسری شادی کرنا چاہتا ہے تو وہ تحریری طور پر اپنی موجودہ بیوی یا بیویوں کو مطلع کرے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو ایک سے زائد شادی کرنے کے عمل کو شریعت کے مطابق آسان بنانے کے لیے اس قانون میں ترمیم کرنی چاہیے۔

پاکستانی قوانین کے مطابق خواتین کے لیے شادی کی کم سے کم عمر 16 جبکہ مردوں کے لیے 18 سال ہے۔

اجلاس کے دوسرے اور آخری روز کونسل نے کہا کہ بچوں کی شادی کے لیے کم سے کم عمرکا تعین نہیں کیا جاسکتا۔

اجلاس کے دوران کہا گیا کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق کم عمری کی شادی کی ممانعت نہیں ہے۔

اجلاس میں مزید کہاگیا کہ نکاح کے لیے کوئی عمر مقرر نہیں کی جاسکتی تاہم رخصتی کے لیے بلوغت کا ہونا لازمی قرار دیاگیا ہے۔

یاد رہے کہ ستمبر میں ہونے والے اجلاس میں اسلامی نظریاتی کونسل نے جنسی زیادتی کے مقدمات میں ڈی این اے ٹیسٹ کو بنیادی شہادت کے طور پر قبول کرنے اور توہین رسالت کا جھوٹا الزام لگانے والے کو سزائے موت دینے کی تجاویز کو رد کر دیا تھا۔

مولانا محمد خان شیرانی نے ایک پریس کانفرنس میں کونسل کے فیصلوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جنسی زیادتی کے مقدمات میں ڈی این اے ٹیسٹ کو واحد اور بنیادی ثبوت کے طور پر قبول نہیں کیا جا سکتا۔

اسی بارے میں