’موجودہ حالات میں ملزم کو پیش ہونے کا نہیں کہہ سکتے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پرویز مشرف اے ایف آئی سی میں زیرِ علاج ہیں

پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے کہا ہے کہ موجودہ سکیورٹی حالات میں وہ ملزم کو عدالت میں پیش ہونے کا نہیں کہہ سکتی۔

منگل کو مقدمے کی سماعت کے دوران جسٹس فیصل عرب نے کہا ’اگرچہ کہ سیکریٹری داخلہ کے بقول حکومت نے پرویز مشرف کے سکیورٹی کے مناسب انتظامات کیے ہیں لیکن ایسے حالات میں جس شخص کو دھمکیاں مل رہی ہوں وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہوتا ہے۔اس لیے انھیں آج عدالت میں پیش ہونے کا نہیں کہا جا سکتا۔‘

پرویز مشرف کے وکلا نے پرویز مشرف کو عدالت میں پیش ہونے سے ایک دن کے استثنیٰ کی درخواست دی تھی جسے عدالت نے منظور کر لی۔

عدالت نے مقدمے کی سماعت ملتوی کرتے ہوئے پرویز مشرف پر فردِ جرم عائد کرنے کے لیے انھیں جعمہ 14 مارچ کو طلب کیا ہے۔

مقدمے کی سمعاعت کے دوران عدالت نے سیکرٹری داخلہ سے کہا کہ وہ ملزم کی باحفاظت عدالت میں پیشی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کریں۔

چیف پراسیکوٹر نے عدالت کو بتایا کہ پرویز مشرف کی ذاتی سکیورٹی پر تعینات اہلکار سابق صدر کے پسندیدہ افراد ہیں اور اس میں حکومت کا کوئی دخل نہیں ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اگر عدالت کہے تو حکومت سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی حفاظت کی ذمہ داری فوج کے اداروں انٹر سروسز انٹیلیجنس، ملٹری انٹیلیجنس یا پھر ٹرپل ون برگیڈ کو دینے کو تیار ہے۔

بینچ کے سربراہ نے ملزم کے وکلاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر پرویز مشرف کی عدالت میں پہلی پیشی کے موقع پر اُن پر فرد جُرم عائد کردی جاتی تو پھر ایسے حالات کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔

اس سے پہلے چیف پراسیکوٹر اکرم شیخ نے عدالت کو بتایا تھا کہ اگر عدالت حکم دے تو حکومت پرویز مشرف کو تحویل میں لے کر باحفاظت عدالت میں پیش کر سکتی ہے اور پرویز مشرف کی سکیورٹی کی تمام تر ذمہ داری حکومتِ پاکستان پر ہوگی۔

انھوں نے کہا تھا کہ ’چونکہ پرویز مشرف کسی بھی مقدمے میں پولیس کو مطلوب نہیں ہے اور وہ ایک آزاد شہری ہیں اس لیے حکومت خود سے انھیں تحویل میں نہیں لے سکتی۔‘

چیف پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا تھا کہ ان کی پیر کی شب وفاقی سیکریٹری داخلہ سے بات ہوئی تھی جس میں سیکریٹری داخلہ نے بتایا تھا کہ پرویز مشرف کو عدالت میں پیش کرنے کے لیے سکیورٹی اقدامات مزید سخت کر لیے گئے ہیں اور ان کی حفاظت پر تعینات 1100 سکیورٹی اہلکاروں کی تعداد کو بڑھا کر 2200 کر دیا گیا ہے۔

اس پر عدالت نے چیف پراسیکیوٹر سے کہا تھا کہ اگر پرویز مشرف کی سکیورٹی کے حوالے سے حکومت کی طرف سے اگر کوئی مزید ہدایات ہیں تو اس سے عدالت کو آگاہ کیا جائے۔

مقدمے کی سماعت شروع ہونے پر پرویز مشرف کی وکلا کی ٹیم میں شامل احمد رضا قصوری نے عدالت میں وفاقی وزارتِ داخلہ کی طرف سے جاری ایک سکیورٹی الرٹ پڑھ کر سنایا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ پرویز مشرف کو کلعدم تحریکِ طالبان پاکستان اور دیگر اہم خیال شدت پسند تنظیموں کی طرف سے خطرہ ہے اور انھیں اے ایف آئی سی سے خصوصی عدالت جاتے ہوئے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

سکیورٹی الرٹ کے مطابق پرویز مشرف کو سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کی طرح ان کا اپنا کوئی سکیورٹی اہلکار نشانہ بنا سکتا ہے۔

پرویز مشرف اے ایف آئی سی میں زیرِ علاج ہیں جہاں ان کو عدالت میں پیش کرنے کے لیے سکیورٹی اہلکار پہنچ گئے تھے لیکن عدالت نے انھیں ایک دن کا استثنیٰ دیا۔

یاد رہے کہ 5 مارچ کو سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے کہا تھا کہ حالات جیسے بھی ہوں ملزم کو 11 مارچ کو عدالت میں پیش ہونا پڑے گا اور اُس دن اُن پر فرد جُرم عائد کی جائے گی۔

اسی بارے میں