’کارروائی ناگزیر ہو جائے تو شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ pti
Image caption فریقین اس بات پر متفق تھے کہ مذاکرات کی ناکامی کو صورت میں دہشت گردی میں اضافہ ہوگا

وزیر اعظم نواز شریف اور عمران خان کے درمیان بدھ کو ہونے والی غیر رسمی ملاقات میں مذاکرات کے ذریعے قیام امن کی کوشش کے علاوہ مذاکرات کے ناکام ہونے کی صورت میں ممکنہ لائحہ عمل کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف نے طالبان کے ساتھ نئی مذاکراتی کمیٹی کی تشکیل کے سلسلے میں بدھ کو تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سے اسلام آباد کے علاقے بنی گالہ میں ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔

اس ملاقات میں وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان، طالبان سے مذاکرات کے لیے موجودہ سرکاری کمیٹی کے رابطہ کار عرفان صدیقی اور وزیراعظم کے پریس سیکریٹری آصف کرمانی بھی موجود تھے۔

تحریک انصاف کی جانب سے عمران کے ساتھ تحریک انصاف کے نائب صدر جاوید ہاشمی، وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی، وزیر اعلی صوبہ خیبر پختونخوا پرویز خٹک، سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین اور مرکزی سکریٹری اطلاعات شیریں مزاری نے شرکت کی۔یہ ملاقات تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہی۔

ملاقات کے بعد تحریک انصاف کی جانب سے جاری ہونے والے پریس ریلیز میں کہا گیا کہ یہ ایک غیر رسمی ملاقات تھی جس میں مذاکرات کے ذریعے امن کے عمل کو تیز کرنے کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا اور ساتھ ہی مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں ممکنہ لائحہ عمل پر بھی تبادلہ خیال کیاگیا۔

پریس ریلیز میں کہاگیا کہ شرکا نے اس امر کی اہمیت کا اعتراف کیا کہ مذاکرات سے انکار کرنے اور ملک میں بدامنی پھیلانے والے عناصر کو الگ کرنا انتہائی ضروری ہے۔

اس بیان میں مزید کہا گیا کہ فریقین اس بات پر متفق تھے کہ مذاکرات کی ناکامی کو صورت میں دہشت گردی میں اضافہ ہوگا۔

حکومت کی جانب سے تحریک انصاف کے رہنماؤں کو طالبان سے اب تک ہونے والے رابطوں کے بارے میں اعتماد میں لیا گیا۔ خیر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ نے صوبے کی صورت حال پر ایک مختصر سا جائزہ پیش کیا۔

عمران خان کی جانب سے اس بات پر زور دیا گیا کہ مذاکرات کے عمل کا ایک باضابطہ ڈھانچہ تشکیل دیا جانا چاہیے اور ان گروہوں کی نشاندہی کی جانے چاہیے جو مذاکرات پر آمادہ ہیں۔

تحریک انصاف کے سربراہ نے کہا کہ اگر شمالی وزیرستان میں کارروائی ناگزیر ہو جائے تو وہاں موجود چھ لاکھ شہریوں کے تحفظ اور سلامتی کو اویلین ترجیح دی جائے۔

عمران خان نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا کہ مذاکراتی عمل میں پیش رفت کی صورت میں مذاکرات مخالف عناصر اپنی سرگرمیاں تیز کر دیں گے۔

تحریک انصاف کی قیادت نے تجویز دی کہ طالبان سے مذاکرات میں قبائلی علاقوں میں پولیو مہم چلانے کے بارے میں بات کی جائے۔

تحریک انصاف کے لیڈروں کا مزید کہنا تھا کہ مذاکراتی عمل کے بارے میں قوم کو بھی اعتماد میں لیا جانا چاہیے اور حکومت کو اس بارے باقاعدگی سے پریس کانفرنسوں کا انعقاد کرنا چاہیے۔

بعد ازاں پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکراتی عمل سے حکومت نے طالبان کو تقسیم کر دیا ہے اگر مذاکرات ناکام ہو جائیں تو آخری حربہ فوجی کارروائی ہے اور اُن سے جیتنا مشکل نھیں ہو گا۔

عمران خان نے مختصر گفتگو میں کہا کہ امن کے لیے وزیراعظم اور وزیرداخلہ بالکل درست سمت میں کام کر رہے ہیں وہ مذاکرات کو پورا موقع دے رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’اگر مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں تو آخری حربہ آپریشن ہی ہے لیکن حکومت کو داد دینا چاہتا ہوں کہ انھوں نے مذاکرات کے ذریعے شدت پسندوں کو تقسیم کر دیا، چھوٹا سا گروپ ہے جو مذاکرات نھیں کرنا چاہتا اور جو بھی ہو جائے انھوں نے لڑنا ہے۔‘

تحریک انصاف کے سربراہ نے کہا کہ وزیراعظم نے بتایا ہے کہ فوج اور حکومت ایک صفحے پر موجود ہیں اور یہ افواہیں ہیں کہ سب کا موقف یکساں نھیں۔

عمران خان نے کہا کہ چوہدری نثار علی نے انھیں بتایا ہے کہ آئندہ چند دنوں میں طالبان کے ساتھ مذاکرات ہوں گے۔

کیا طالبان کو دفتر کھولنے کے لیے جگہ دی جائے گی؟ اس سوال کے جواب میں عمران خان نے ایک بار پھر اپنی تجویز دہرائی اور کہا کہ پہاڑوں اور غاروں میں مذاکرات نھیں ہوتے تاہم یہ نھیں بتایا کہ حکومت کا جواب مثبت ہے یا منفی بس یہ کہنے پر اکتفا کیا کہ وزیراعظم نے بتایا کہ مذاکراتی عمل کے لیے حکومت نے طریقہ ڈھونڈ لیا ہے اور اس کے لیے ڈھانچہ تشکیل دے دیا گیا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ: ’وزیرستان میں بڑے گروپ بات چیت کرنا چاہتے ہیں اگر ہم آپریش کرنا چاہیں اور سب گروہ (شدت پسند) اکھٹے ہو جائیں تو یہ تو پاگل پن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شدت پسند گروہوں کے اند ہونے والی تقسیم خوش آئیند ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ اندرونی اور بیرونی عناصر مذاکراتی عمل کو ثبوتاژ کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

حکومت کی جانب سے مذاکرات کے لیے ممکنہ طور پر تشکیل دی جانے والی نئی کمیٹی کے بارے میں عمران خان نے کوئی بات نھیں کی تاہم یہ ضرور کہا کہ حکومتی کمیٹی میں ان کی جماعت کے رکن رستم شاہ مہمند شامل ہیں اور شامل رہیں گے۔

عمران خان نے بتایا کہ انھوں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات میں پولیو ورکرز کو تحفظ فراہم کرنے کے معاملے پر بھی بات چیت ہونی چاہیے۔

اسی بارے میں