مہنگائی میں کمی، قومی پیداورا میں اضافہ ہوا ہے: اسحاق ڈار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وفاقی وزیرِ خزانہ نے کہا کہ پیاز، ٹماٹر اور ڈالر کی قیمتیں کم ہو گئیں

پاکستان کے وفاقی وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے دعویٰ کیا ہے کہ یکم جولائی سنہ 2013 سے 28 فروری سنہ 2014 تک ملک میں مہنگائی کی شرح میں کمی اور قومی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بجٹ کا خسارہ کم ہو کر 3.1 فیصد ہوگیا ہے جبکہ ملک کی برآمدات میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

وفاقی وزیرِ خزانہ نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران حکومت کی گذشتہ آٹھ ماہ کی کارکردگی بیان کرتے ہوئے کہا کہ’ہمارے تمام بڑے انڈیکیٹرز مثبت ہیں۔ جی ڈی پی یا قومی پیداوار بڑھ رہی ہے اور مہنگائی کی شرح میں کمی ہو رہی ہے اور آئی ایم ایف سمیت عالمی ادارے بھی اس کو مانتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ قومی پیداور کی شرح جو پچھلے پانچ سال سے تین فیصد تھی جسے ہم نے تین سال میں چھ فیصد پر لے جانے کا وعدہ کیا ہے اب ہماری اس کے بارے میں اس وقت چار فیصد سے اوپر کی پیشگوئی ہے۔

مہنگائی کی شرح 8.6 فیصد ہے جبکہ قومی پیداوار میں اضافہ ہوا 4.4 فیصد کی پیشگوئی ہے جو کہ ہمارا حدف ہے۔’

وفاقی وزیرِ داخلہ نے ٹیکس وصولی کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ’ گذشتہ مالی سال میں 1145 ارب روپے ٹیکس جمع کیا گیا جبکہ جولائی سنہ 2013 سے فروری 2014 تک 1348 ارب روپے ٹیکس کی مد میں جمع کیے گئے ہیں جو کہ گذشتہ مالی سال میں 17.7 فیصد اضافہ ہوا ہے۔‘

بجٹ میں خسارے کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ پچھلے سال آٹھ مہینے میں بجٹ کا خسارہ چار اعشاریہ ایک فیصد تھا جبکہ اس سال پہلے آٹھ مہینے میں بجٹ کا خسارہ تین اعشاریہ ایک فیصد ہو گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس میں کارکردگی میں بہتری ہوئی ہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ پچھلے سال آٹھ مہینے میں بیرون ملک پاکستانیوں کی طرف سے ملک میں بھیجی گئی رقوم 9 ارب 23 کروڑ تھی جبکہ اس سال کے پہلے آٹھ مہینوں میں 10 ارب 24 کروڑ بھیجے جا چکے ہیں۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ اس میں ہم اپنے ہدف سے آگے جا چکے ہیں اور اس میں 11 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ برآمدات میں بھی اچھی خبریں ہیں:’ گذشتہ سال برآمدات کی مالیت 14 ارب 88 کروڑ تھی جبکہ اس سال 16 ارب 86 کروڑ ہو گئیں ہیں جس کا مطلب ہے کہ برآمدات میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’روپے کی قدر میں اضافے سے بھی مہنگائی میں کمی آئی ہے اور ہم نے گذشتہ کچھ عرصے سے پیٹرول کی قیمت میں اضافہ نہیں کیا۔‘

انھوں نے دعویٰ کیا کہ بہت سے خورد و نوش کی اشیا کے قیمتوں میں اضافہ ضرور ہوا ہے لیکن بعد میں ان کی قیمتوں کم ہوئیں۔

وفاقی وزیرِ خزانہ نے کہا کہ پیاز، ٹماٹر اور ڈالر کی قیمتیں کم ہوگئیں اور تقریباً اس سطح پر آ گئیں جب ہماری حکومت نے حلف لیا تھا۔

انھوں نے دعویٰ کیا جو لوگ ایک لاکھ روپے کو بھی ڈالر میں بدل کر رکھ رہے تھے اب لوگوں کی لائنیں لگ گئیں ہیں اور وہ ڈالر بیچ رہے ہیں۔

انھوں نے کہا جب ملک کی کرنسی کی قدر اچھی ہوتی تو لوگوں میں سرمایہ کرنے کے لیے اعتماد ہوتا ہے۔

اسی بارے میں