پاکستان کی بھارتی انتخابات میں عدم دلچسپی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بھارت میں آنے جانے والے تمام حکمران ایک جیسے رہے ہیں: منور حسن

پاکستان کے ٹی وی نیوز چینلز پر دہشت گردی بڑا موضوع بن کر اکثر چھایا رہتا ہے لیکن ایک آدھ چینل ہمسایہ ملک بھارت کسی بڑی خبر پر بھی بات کر لیتا ہے۔

پاکستان میں فل الحال بھارتی انتخابی مہم پر کوئی زیادہ بات نہیں ہو رہی ہے۔ لیکن جب بھی کوئی بھارتی سیاستدان پاکستان مخالف بات کرتا ہے تو اس پر یہاں بحث کی جاتی ہے۔

گجرات کے فسادات اور پاکستان کے خلاف سخت زبان کے استعمال کی وجہ سے نریندر مودی کے بارے میں پاکستان میں زیادہ اچھی رائے نہیں رکھی جاتی۔

لاہور کے چند شہریوں سے جب بات کی تو حیرت انگیز طور پر اکثر کو نریندر مودی کا مخالف پایا۔ان کا مودی کے بارے میں تاثر یہی تھا کہ وہ انتہائی متنازعہ مسلمان مخالف شخصیت ہیں جن کے اقتدار میں آنے سے پاکستان کسی اچھی پیش رفت کی توقع نہیں کر سکتا ہے۔

لیکن پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے قریب سمجھے جانے والے اور مذہبی سوچ رکھنے والے پاکستانی سیاستدان بی جے پی کے رہنماؤں کے پاکستان مخالف بیانات کو ووٹ حاصل کرنے کی ایک کوشش قرار دیتے ہیں۔

سابق فوجی آمر جنرل ضیا الحق کے بیٹے اور مسلم لیگ (ضیا) کے سربراہ اعجاز الحق کہتے ہیں کہ سخت گیر موقف والی جماعتیں دونوں ممالک کے لیے بہتر ثابت ہوئی ہیں۔

’ان کے (مودی) کے بیانات نہ تو پاکستان کے حق میں ہیں اور نہ اسلام کے حق میں۔ بیانات کا مقصد تو انتخابات میں ووٹ لینے ہیں۔ لیکن اگر سخت گیر جماعتیں آتی ہیں تو یہ مسائل کا حل بھی بہتر کرسکتی ہیں۔ دوسری جماعتیں اکثر سوتی رہ جاتی ہیں کہ اگر ایسا کیا تو یہ ہوگا اور اگر ویسا کیا تو یہ۔اگر حالات بہتر کرنے ہیں تو پانی اور کشمیر کا مسئلہ حل کرنا ہوگا۔‘

پاکستان کی جماعت اسلامی نے ہمیشہ ہندوستان کی جانب سخت رویہ اپنائے رکھا ہے۔ بھارتی الیکشن میں جیت جس کی بھی ہو جماعت کے امیر سید منور حسن کوئی زیادہ پرامید نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’بھارت میں آنے جانے والے تمام حکمران ایک جیسے رہے ہیں۔ سب نے پاکستانی کی نفی کی ہے، اکھنڈ بھارت کی بات کی ہے۔ پاکستان کے لیے مشکلات بار بار پیدا کی ہیں۔ مذاکرات کی میز بچھانے کے باوجود کسی نتیجے پر نہیں پہنچے ہیں۔ کشمیر کے مسئلے کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور اس میں کوئی تخصیص نہیں ہے کہ اگر نریندر مودی آئے تو کیا ہوگا اور دوسرا کوئی آیا تو کیا ہوگا۔‘

پاکستانی حکومت کہتی ہے کہ چاہے مودی آئیں یا کوئی اور وہ جو پالیسی بھی اختیار کریں گے پاکستان اس کا جواب اسی طرح دے گا۔

وفاقی وزیر لیفٹنٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر بلوچ نے بی بی سی کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان تمام ہمسایوں کے ساتھ امن سے رہنا چاہتا ہے۔ کسی کے معاملات میں مداخلت نہیں کرنا چاہتا ہے۔ بھارت میں جو جماعت بھی اقتدار میں آئے گی وہ اپنا فیصلہ کرے کہ اگر وہ اچھے تعلقات رکھنا چاہیں گے اچھے تعلقات رکھیں گے اگر وہ جنگ کرنا چاہیں گے تو ہمیں تیار پائیں گے۔‘

پاکستان میں عام لوگوں اور سیاستدانوں کی اس سوچ سے تجزیہ نگار متفق دکھائی نہیں دیتے۔

پشاور یورنیوسٹی میں بین الاقوامی تعلقات عامہ کے ڈاکٹر حسین شہید سہرودی کا کہنا تھا کہ ’عام لوگ سطحی تاثر پر جاتے ہیں اور بات کرتے ہیں جبکہ محقق معاملات کی تہہ تک پہنچ کر بات کرتے ہیں۔ بی جے پی کی پاکستان سے متعلق پالیسی تعلقات کو معمول پر لانے کی تھی۔ بی جے پی کی حکومت پاکستان کے لیے اچھی ثابت ہوئی ہے۔‘

ہندوستان مخالف سمجھی جانے والی جماعت الدعوۂ جیسی جماعت نریندر مودی کو کس نظر سے دیکھتی ہوں گی؟ اس بابت جماعت الدعوۂ سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن کامیابی نہیں ملی۔

دوسری جانب ڈاکٹر حسین شہید سہرودی کہتے ہیں کہ ان گروپوں کو جو بھی آئے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

’وہ ہر حکومت کو کشمیر کے زاویے سے دیکھتے ہیں۔اگر کوئی ان کے موقف کے مطابق بات کرتا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ نہیں۔ مرے خیال میں جذبات کو ایک طرف رکھ کر ہم جتنے ہندوستان کے قریب رہیں گے تو ہمارے لیے مسائل کے حل میں مدد دے گا۔‘

پاکستان اور ہندوستان کے درمیان دہشت گردی کے علاوہ عام انتخابات بھی تعلقات میں بہتری میں تاخیر کی وجہ بنتے رہے ہیں۔

اب جبکہ دونوں ممالک کی حکومتیں کم از کم چار برس تک ایک ساتھ اقتدار میں رہیں گی۔ لہٰذا تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر سیاست کو ایک طرف رکھ کر بہتری کی کوشش کی جائے تو شاید کامیابی کے امکانات زیادہ ہوں گے۔

اسی بارے میں