طالبان کمیٹی شمالی وزیرستان میں:’آئین سے بالاتر کوئی مطالبہ تسلیم نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption آئین اور قانون سے بالاتر کسی بھی مطالبے کو پورا نہیں کیا جائے گا: نواز شریف

حکومتِ پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے لیے کلعدم تحریکِ طلبان کی کمیٹی کے اراکین ہیلی کاپٹر کے ذریعے شمالی وزیرستان پہنچ گئے ہیں جہاں وہ حکومت اور طالبان رہنماوں کے درمیان براہ راست مذاکرات کے بارے میں طالبان رہنماؤں سے مشاورت کریں گے۔

ادھر وزیرِاعظم پاکستان نے کہا ہے کہ طالبان کے مطالبات پر غور ہو رہا ہے لیکن آئین اور قانون سے بالاتر کسی بھی مطالبے کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

پاکستان کے سرکاری ٹی وی پی ٹی وی کے مطابق پروفیسر ابراہیم خان، مولانا یوسف شاہ اور مولانا عبدالحئی پر مشتمل طالبان کمیٹی کے اراکین جمعرات کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ پہنچے۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق یہ کمیٹی کلعدم تحریکِ طالبان اور حکومتِ پاکستان کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے طالبان رہنماؤں کے ساتھ حتمی مشاورت کرے گی۔

طالبان کمیٹی اور طالبان رہنماؤں کے مابین حکومتی کمیٹی اور طالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات کے لیے جگہ اور وقت کے تعین کے بارے میں بات چیت ہوگی۔

خیال رہے کہ طالبان کمیٹی کے اراکین پروفیسر ابراہیم خان اور مولانا یوسف شاہ اس سے پہلے بھی فروری کے اوائل میں کلعدم تحریکِ طالبان کے رہنماؤں سے بات چیت کے لیے شمالی وزیرستان گئے تھے اور واپسی پر حکومتِ پاکستان کو کلعدم تحریکِ طالبان کا موقف پہنچایا تھا۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق ادھر جمعرات کو ہی وزیرِاعظم پاکستان نے پاکستان علما کونسل سے ملاقات میں کہا ہے کہ حکومت ملک میں امن لانے کی خاطر طالبان کے ساتھ مذاکرات میں سنجیدہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ امن کے لیے طالبان کے مطالبات پر غور ہو رہا ہے جس پر حکومتی کمیٹی بحث کرے گی لیکن آئین اور قانون سے بالاتر کسی بھی مطالبے کو پورا نہیں کیا جائے گا۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ وہ طالبان جو عسکری کارروئیوں میں ملوث نہیں انھیں رہا کیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ حکومت ملک میں امن و استحکام لانے کے لیے درپیش مشکلات کو حل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

بدھ کو پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی نے کہا تھا کہ طالبان سے مذاکرات کے لیے حکومتی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے نامزد حکومتی کمیٹی میں پورٹس اور شیپنگ کے وفاقی سیکریٹری حبیب اللہ خان خٹک، ایڈیشنل چیف سیکریٹری فاٹا ارباب محمد عارف، وزیرِاعظم سیکریٹریٹ میں ایڈیشنل سیکریٹری فواد حسن فواد اور پی ٹی آئی کے رستم شاہ مہمند شامل ہیں۔

حبیب اللہ خان خٹک، ارباب محمد عارف اور رستم شاہ مہمند جو خبیر پختون خوا کے سابق چیف سیکریٹر بھی رہ چکے ہیں ملک کے قبائلی علاقوں میں انتظامی اور سکیورٹی امور کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شاہد اللہ شاہد کا کہنا تھا کہ تحریک طالبان پاکستان پوری سنجیدگی کے ساتھ جنگ بندی کے فیصلے پر عمل پیرا ہے

وفاقی وزیرِ داخلہ نے بدھ کو طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق ،پروفیسر ابراہیم اور مولانا یوسف شاہ سے بھی ملاقات کی تھی۔ملاقات میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ طالبان کی مذاکراتی کمیٹی جمعرات کو شمالی وزیرستان جائے گی اور طالبان سے بات چیت کرے گی جس کا مقصد نئی حکومتی کمیٹی کے ساتھ طالبان کی براہ راست ملاقات کے لیے وقت اور جگہ کا تعین کرنا ہے۔

یاد رہے کہ بدھ کے روز ہی طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد کی جانب سے ایک ناراضگی بھرا پیغام میڈیا کو ارسال کیا گیا تھا جس میں الزام عائد کیا گیا کہ پاکستان کے سکیورٹی ادارے جنگ بندی کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

بیان میں تحریک طالبان نے پشاور، مہمند (غلنئی ) اور کراچی سینٹرل جیل میں قید اسیروں کو چکیوں میں بند کر کے اذیت دینے کا الزام بھی لگایا گیا تھا۔ طالبان ترجمان کا کہنا تھا کہ کراچی سینٹرل جیل سے بلاوجہ قیدیوں کو سندھ، پنجاب اور بلوچستان کی دیگر جیلوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔

شاہد اللہ شاہد کا کہنا تھا کہ تحریک طالبان پاکستان پوری سنجیدگی کے ساتھ جنگ بندی کے فیصلے پر عمل پیرا ہے اور احرار الہند اور جند اللہ جیسے گروپوں سے لاتعلقی کا اعلان بھی کر چکی ہے، تاہم حکومتی صفوں میں موجود بہت سے عناصر مذاکراتی ماحول کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں