پرویز مشرف کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption وزارتِ داخلہ نے سیکیورٹی کے انتظامات تو کیے ہیں مگر ان پر اطمینان کا اظہار کرنا ان کے موکل کا استحقاق ہے: وکیلِ صفائی

پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف عذاری کے مقدمے کی سماعت میں خصوصی عدالت نے ملزم پرویز مشرف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے ہیں اور اُنہیں 31 مارچ کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ اگر ملزم آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش ہونے سے انکار کریں تو اُنھیں گرفتار کیا جائے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالتی حکم 31 مارچ کے لیے ہے اور اس سے پہلے اُنھیں گرفتار نہیں کیا جاسکتا۔

سابق فوجی صدر ان دنوں فوج کے زیر انتظام چلنے والے ادارے اے ایف آئی سی میں زیر علاج ہیں۔ عدالت نے اس مقدمے کی سماعت 20 مارچ تک کے لیے ملتوی کردی ہے جس میں دیگر درخواستوں کی سماعت کی جائے گی۔

یاد رہے کہ آج صبح سماعت میں عدالت نے وکیلِ صفائی کے سامنے دو راستے رکھے جن میں سے ایک پرویز مشرف کی عدالت میں پیشی اور دوسرا ان کی عدم موجودگی میں فردِ جرم عائد کرنا تھا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ ملزم پرویز مشرف کی متوقع آمد کے موقع پر وزارتِ داخلہ نے سیکیورٹی کے حوالے سے سخت اقدامات کر رکھے ہیں۔

جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے مقدمے کی سماعت کی۔

’موجودہ حالات میں ملزم کو پیش ہونے کا نہیں کہہ سکتے‘

ایمرجنسی میں مدد کرنے والوں پر مقدمہ چلائیں

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ اس سے پہلے وکیلِ استغاثہ نے عدالت کو تجویز پیش کی تھی کہ چونکہ پراسیکیوشن نے پہلے ہی پرویز مشرف کو فردِ جرم کی کاپی بھیج رکھی ہے، اس لیے اگر عدالت مناسب سمجھے تو وہ پرویز مشرف کے صرف وکلا کی موجودگی میں ہی ان کے خلاف چارج شیٹ پڑھ کر سنا دے۔ انھوں نے کہا کہ عدالتی تاریخ میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ ملزم کی عدم پیشی کے باوجود اس کے وکلا کی موجودگی میں فردِ عائد کی گئی ہو۔

دوسری جانب پرویز مشرف کے وکلا نے اپنے موکل کے لیے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کر دی ہے۔ یہ درخواست ایڈوکیٹ انور منصور نے دائر کی ہے۔

انور منصور نے اشتنیٰ کی وجہ سیکورٹی کو بنایا ہے اور نشینل کرائسز مینجمنٹ سیل کی جانب سے پرویز مشرف کی سیکورٹی کو لاخق خطرات سے متعلق چند روز پہلے موصول ہونے والے خط کا حوالہ دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پرویز مشرف کی سیکیورٹی پر معمور اہلکاروں کا انتخاب خود پرویز مشرف نے کیا ہے: وکیلِ استغاثہ اکرم شیخ

انور منصور نے کہا کہ وزارتِ داخلہ نے سیکیورٹی کے انتظامات تو کیے ہیں مگر ان پر اطمینان کا اظہار کرنا یا نہ کرنا، ان کے موکل کا استحقاق ہے۔

انور منصور نے عدالت میں دالائل دیتے ہوئے کہا کہ پرویز مشرف کی سیکورٹی پر معمور اہلکاروں کی جانچ پڑتال اور تصدیق کی جائے۔

انھوں نے کہا کہ معلوم کیا جائے سیکورٹی اہلکاروں کی کن افراد سے دوستی ہے اور وہ کن لوگوں کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں۔ انھوں نے کہا اس مرحلے میں چھ سے آٹھ ہفتے لگ سکتے ہیں اور تصدیقی عمل مکمل ہونے کے بعد رینجرز اور ٹاسک فورس کے سربراہاں عدالت میں بیان جمع کروائیں جس کے بعد پرویز مشرف عدالت میں پیش ہو جائیں گے۔

وکیلِ استغاثہ اکرم شیخ نے اس موقعے پر کہا کہ پرویز مشرف کی ذاتی سیکیورٹی پر تعینات اہلکاروں کا انتخاب خود پرویز مشرف نے کیا ہے جس میں حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔

اُنھوں نے عدالت کو بتایا کہ اس مقدمے میں گُذشتہ آٹھ سماعتوں کے دوران ملزم پرویز مشرف کی عدالت میں متوقع پیشی کے حوالے سے کیے جانے والے سکیورٹی اقدامات پر سرکاری حزانے سے بیس کروڑ روپے خرچ ہوچکے ہیں۔ اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ جمعہ کے روز اس مقدمے کی سماعت کے دوران سابق صدر کی حفاظت کے لیے پچیس سو اہلکاروں کو مختلف روٹس پر تعینات کیا گیا ہے۔

ادھرایس پی اسلام آباد چوہدری اشفاق پرویز مشرف کی حاضری عدالت میں یقینی بنانے کے لیے راولپنڈی کے ہسپتال اے ایف آئی سی پہنچ گئے ہیں۔ اس موقع پر سکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیے گیے ہیں۔ اے ایف آئی سی کے راستے میں کنٹینرز لگا دیے گیے ہیں۔

اسی بارے میں