پاکستان کی قومی زبانیں

Image caption ماروی میمن کی سربراہی میں بننے والی یہ کمیٹی یہ طے نہیں کر سکی کہ کن زبانوں کو قومی زبان کا درجہ دیا جائے

ایک ایسے وقت میں جب پاکستان بعض مبصرین کی نظر میں اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے، حکومت میں شامل بعض افراد اس ملک میں بولی جانے والی زبانوں کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

’یہ صرف کسی زبان یا بولی کو بچانے کی کوشش نہیں ہے۔ یہ اس ملک کو یکجا رکھنے کی جدوجہد ہے۔ زبان سے زیادہ اور کیا چیز کسی بھی خطے کو سیاسی طور پر اکٹھا رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔‘

یہ کہنا ہے ماروی میمن کا جو قومی اسمبلی کی اس قائمہ کمیٹی کی رکن ہیں جس نے اس ملک میں بولی جانے والی بڑی زبانوں کو قومی زبان کا درجہ دلوانے کا بیڑہ اٹھایا ہے۔

اس کمیٹی نے قانون سازی کرنے کی تجویز پیش کی ہے جس کے ذریعے ایک سے زائد زبانوں کو ملک کی قومی زبانیں قرار دیا جا سکے گا۔

اس سے پہلے ایک کمیشن بنایا جائے گا جو یہ طے کرے گا کہ پاکستان میں بولی جانے والی کون کون سے زبانیں قومی زبان کا درجہ حاصل کرنے کے لائق ہیں۔ اور اس سے بھی پہلے ایک پالیسی بنائی جائے گی جسے ’قومی زبان پالیسی‘ کہا جا رہا ہے، جس میں بعض بنیادی نکات طے کیے جائیں گے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات نے اس کام کا آغاز پورے ملک سے ماہرینِ لسانیات کے ساتھ روابط سے کیا ہے۔ اب تک پینتیس زبانوں کے نمائندے اس کمیٹی کے سامنے اپنی سفارشات پیش کر چکی ہیں۔

حکمران جماعت کی رہنما ماروی میمن کی سربراہی میں بننے والی یہ کمیٹی یہ طے نہیں کر سکی کہ کن زبانوں کو قومی زبان کا درجہ دیا جائے۔

انھوں نے بتایا کہ ’ہم ابھی یہ فیصلہ نہیں کرنا چاہتے کہ کون کون سی زبانیں قومی درجہ حاصل کر سکیں گی۔ یہ فیصلہ بین الاقومی معیار کو سامنے رکھ کر، سائنسی بنیادوں پر ہونے والے سروے کے بعد ماہرین کریں گے۔ ہمارا مینڈیٹ ایک ایسا طریقۂ کار تشکیل دینا ہے جو ایک پلیٹ فارم مہیا کرے جہاں پر یہ ساری تحقیق اور اس کی بنیاد پر فیصلے کیے جا سکیں۔‘

ماروی میمن کا البتہ کہنا تھا کہ ماہرینِ لسانیات سے ہونے والے تبادلہ خیال کے بعد اب تک وہ کم از کم سات ایسی زبانوں کے بارے میں سمجھ سکی ہیں کہ انہیں قومی زبان کا درجہ ملنا چاہیے۔ ان میں شنا، کشمیری، پہاڑی، پشتو، سرائیکی، سندھی اور پنجابی شامل ہیں۔

بعض اندازوں کے مطابق پاکستان میں پچاس کے قریب زبانیں بولی جاتی ہیں۔ ان میں سے بہت سی ایسی ہیں جن کے معدوم ہونے کے خدشات ہیں۔

لاہور کی انجیئرنگ یونیورسٹی میں لسانیت کے شعبے کے سربراہ ڈاکٹر سرمد حسین کہتے ہیں کہ ان سب زبانوں کو قومی زبان کا درجہ دینا ممکن نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’اس لیے میری تجویز ہے کہ ان زبانوں کی درجہ بندی کی جائے اور پھر ان کی ترقی اور ترویج کی کوششیں کی جائیں۔‘

ڈاکٹر سرمد کے مطابق پاکستان میں صرف چھ ایسی زبانیں ہیں جو قومی زبانوں کا درجہ حاصل کرنے کے لائق ہیں۔ ان میں پشتو، سرائیکی، سندھی، بلوچی اور پنجابی شامل ہیں۔

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے شعبۂ لسانیات کے پروفیسر ڈاکٹر عطش درانی اس رائے سے اختلاف کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اردو کے علاوہ کوئی دوسری زبان قومی زبان کے معیار پر پورا نہیں اترتی۔

’وہی زبان قومی درجہ حاصل کر سکتی ہے جو مختلف قومیتوں کے درمیان رابطے کا ذریعہ بنے۔ اگر سندھی، بلوچی اور شنا بولنے والا پشتو سمجھتا ہے تو پشتو کو قومی زبان قرار دیا جا سکتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے نا پشتو اور نہ اردو کے علاوہ کوئی دوسری زبان اس معیار پر پورا اترتی ہے۔‘

ڈاکٹر عطش کے مطابق جو لوگ زبانوں کی ترویج کے بارے میں دلائل پیش کرتے ہیں وہ ادب کی زبان کی بات کرتے ہیں جبکہ ادب کسی بھی بولی والی زبان کے پانچ فیصد سے زیادہ نہیں ہوتا۔

اس اختلاف رائے کے باوجود ان دونوں ماہرین کے درمیان ایک نکتے پر اتفاق ہے۔ڈاکٹر سرمد اور ڈاکٹر عطش دونوں سمجھتے ہیں کہ کسی بھی زبان بولنے والوں کو اس زبان سے معاشی یا اقتصادی فائدے کے امکانات کے بغیر، کسی بھی زبان کو قومی زبان نہ بنایا جا سکتا ہے اور نہ اسے معدوم ہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں