سکیورٹی فورسز نشانے پر، کوئٹہ اور پشاور میں حملوں میں اٹھارہ ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پشاور میں بھی پولیس کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی

پاکستان کے دو صوبائی دارالحکومتوں کوئٹہ اور پشاور میں جمعہ کو ایف سی اور پولیس پر حملوں میں اٹھارہ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔

کوئٹہ اور پشاور میں سکیورٹی فورسز کو ایک ایسے وقت نشانہ بنایا گیا ہے جب وفاقی حکومت کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات کے ذریعے ملک میں دہشت گردی کو پرامن طریقے سے ختم کرنے کی جدوجہد کر رہی ہے۔

اس سلسلے میں کی جانے والی کوششوں کے سلسلے میں طالبان کی مذاکراتی کمیٹی اس وقت طالبان کی قیادت سے مشاورت کرنے کے لیے شمالی وزیرستان میں ہے۔

گذشتہ روز طالبان کی طرف سے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ حکومت کی طرف سے طالبان کارروائیوں میں کمی نہیں آئی ہے اور مختلف جیلوں میں موجود طالبان قیدیوں کو مختلف جگہوں پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

پشاور

پشاور میں قبائلی علاقے کی سرحد کے قریب پولیس پر ہونے والے ایک مبینہ خود کش حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد آٹھ ہوگئی ہے۔

پشاور پولیس کنٹرول کے مطابق اس حملے میں ہلاکتوں کی تعداد آٹھ جبکہ زخمیوں کی تعداد 40 تک پہنچ گئی ہے۔مرنے والوں میں اکثریت عام شہریوں کی ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ جمعہ کو خیبر ایجنسی کے سرحد کے قریب واقع پشاور کے مضافاتی علاقے سربند میں ایک بازار میں پیش آیا۔

ایس پی کینٹ فیصل کامران نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعہ کی نماز سے قبل پولیس کی نفری علاقے میں معمول کا گشت کر رہی تھی کہ اس دوران ایک مبینہ خودکش حملہ آوار نے پولیس اے پی سی کے قریب آ کر خود کو دھماکے سے اْڑا دیا۔

پولیس کے مطابق دھماکے میں چار پولیس اہلکاروں کو معمولی زخم آئے ہیں۔ زخمیوں کو حیات آباد میڈیکل کمپلیکس اور خیبر ٹیچنگ ہسپتال پشاور منتقل کیا گیا ہے جن میں بعض کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکہ قبائلی علاقے باڑہ کی حدود سے چند سو میٹر دور بٹاتل بازار میں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دھماکے کے نتیجے میں قریب واقع پٹرول پمپ، دوکانوں اور گھروں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

ابھی تک کسی تنظیم کی جانب سے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ پشاور کا مضافاتی علاقہ سربند قبائلی علاقے باڑہ سے چند سو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس علاقے میں پولیس اہلکاروں پر اس سے قبل بھی متعدد مرتبہ حملے ہوچکے ہیں جس میں ہلاکتیں بھی ہوچکی ہیں۔ اس مقام سے تھوڑے ہی فاصلے پر واقع سربند پولیس چوکی پر شدت پسندوں کی طرف سے کئی بار رات کی تاریکی میں راکٹ حملے کیے گئے ہیں۔

کوئٹہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بم ڈسپوزل سکواڈ کے مطابق یہ دھماکا ٹائم ڈیوائس کے ذریعے کیا گیا اور بم سائیکل میں نصب تھا

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں جناح روڈ پر سائنس کالج چوک میں دھماکے کے نتیجے میں دس افراد ہلاک اور 38 زخمی ہوگئے ہیں۔

سول ہسپتال کے ڈاکٹر کریم نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکے میں دس افراد ہلاک اور 38 زخمی ہوئے جن میں بعض کی حالات تشویش ناک ہے۔

کوئٹہ کے ڈی آئی جی آپریشن محمد جعفر نے بی بی سی کوبتایا کہ بم ڈسپوزل سکواڈ کے مطابق یہ دھماکا ٹائم ڈیوائس کے ذریعے کیا گیا اور بم سائیکل میں نصب تھا۔

دھماکا جناح روڈ پر سائنس کالج چوک میں نمازِ جمعہ کے بعد ہوا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق دھماکے میں ایف سی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ایف سی کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکا اس وقت ہوا جب ایف سی کا ایک قافلہ جائے وقوع سے گزر رہا تھا۔

دھماکے میں بڑے پیمانے پر نقصان ہوا۔دھماکے میں ایک بس، کئی رکشے، سائیکل اورگاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے۔

امدادی کارروائیاں مکمل کر دیں گئیں ہیں اور زخمیوں کو قریبی سول ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

دھماکے کے بعد بڑی تعداد میں سکیورٹی اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔

اسی بارے میں