طالبان کمیٹی کی شمالی وزیرستان سے واپسی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption جس نامعلوم مقام پر مذاکرات ہو رہے ہیں وہاں ٹیلی فون کی سہولت مہیا نہیں: مولانا سمیع الحق

حکومت پاکستان سے مذاکرات کے لیے نامزد طالبان کمیٹی شمالی وزیرستان سے واپسی کے بعد مولانا سمیع الحق سے ملاقات کے لیے اکوڑہ خٹک پہنچ گئی ہے۔

پروفیسر ابراہیم خان، مولانا یوسف شاہ اور مولانا عبدالحئی پر مشتمل طالبان کمیٹی کے اراکین گذشتہ روز ہیلی کاپٹر کے ذریعے شمالی وزیرستان پہنچے تھے۔

طالبان کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ’ کمیٹی آج جمعے کے بعد واپس پہنچ رہی ہے جس کے بعد وہ مجھ سے ملاقات کے لیے اکوڑہ خٹک پہنچے گی۔‘

انہوں نے بتایا ’کمیٹی کے طالبان کی شورہ کے ساتھ نامعلوم مقام پر مذاکرات جاری ہیں۔ کل پہنچے کے بعد مجھے کمیٹی نے فون کیا تھا اور بتایا تھا کہ آج وہ جمعے کے بعد میرے پاس پہنچیں گے۔‘

ان کے مطابق جس نامعلوم مقام پر مذاکرات ہو رہے ہیں وہاں ٹیلی فون کی سہولت مہیا نہیں۔

حکومت پاکستان اور طالبان کے درمیان مذاکرات دوسرے مرحلے یعنی رابطہ کاری کے بعد فیصلہ سازی میں داخل ہو گئے ہیں جس کے لیے حکومت نے نئی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جبکہ اس پیش رفت کے بعد طالبان اپنی کمیٹی تحلیل کریں گے یا مزید اراکین شامل کریں اس کا فیصلہ ابھی ہونا باقی ہے۔

طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے نامزد حکومتی کمیٹی میں پورٹس اور شیپنگ کے وفاقی سیکریٹری حبیب اللہ خان خٹک، ایڈیشنل چیف سیکریٹری فاٹا ارباب محمد عارف، وزیرِاعظم سیکریٹریٹ میں ایڈیشنل سیکریٹری فواد حسن فواد اور پی ٹی آئی کے رستم شاہ مہمند شامل ہیں۔

حبیب اللہ خان خٹک، ارباب محمد عارف اور رستم شاہ مہمند ملک کے قبائلی علاقوں میں انتظامی اور سکیورٹی امور کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔

اس سے قبل گذشتہ روز جمعرات کو ہی وزیرِاعظم پاکستان نے پاکستان علما کونسل سے ملاقات میں کہا کہ حکومت ملک میں امن لانے کی خاطر طالبان کے ساتھ مذاکرات میں سنجیدہ ہے۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ وہ طالبان جو عسکری کارروائیوں میں ملوث نہیں، انھیں رہا کیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ حکومت ملک میں امن و استحکام لانے کے لیے درپیش مشکلات کو حل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

یاد رہے کہ بدھ کے روز ہی طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد کی جانب سے ایک ناراضگی بھرا پیغام میڈیا کو ارسال کیا گیا تھا جس میں الزام عائد کیا گیا کہ پاکستان کے سکیورٹی ادارے جنگ بندی کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

بیان میں تحریک طالبان نے پشاور، مہمند اور کراچی سینٹرل جیل میں قید اسیروں کو چکیوں میں بند کر کے اذیت دینے کا الزام بھی لگایا گیا تھا۔ طالبان ترجمان کا کہنا تھا کہ کراچی سینٹرل جیل سے بلاوجہ قیدیوں کو سندھ، پنجاب اور بلوچستان کی دیگر جیلوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔

شاہد اللہ شاہد کا کہنا تھا کہ تحریک طالبان پاکستان پوری سنجیدگی کے ساتھ جنگ بندی کے فیصلے پر عمل پیرا ہے اور احرار الہند اور جند اللہ جیسے گروپوں سے لاتعلقی کا اعلان بھی کر چکی ہے، تاہم حکومتی صفوں میں موجود بہت سے عناصر مذاکراتی ماحول کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں