کوئٹہ اور پشاور بم حملے: ہلاکتیں 21 ہو گئیں

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پولیس کے مطابق پشاور دھماکے میں ہلاک ہونے والے بیشتر افراد کا تعلق قبائلی علاقے باڑہ سے ہے

پاکستان کے دو صوبائی دارالحکومتوں کوئٹہ اور پشاور میں جمعہ کو ایف سی اور پولیس پر حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 21 ہو گئی ہے۔

کوئٹہ اور پشاور میں سکیورٹی فورسز کو ایک ایسے وقت نشانہ بنایا گیا جب وفاقی حکومت کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات کے ذریعے ملک میں دہشت گردی کو پرامن طریقے سے ختم کرنے کی جدوجہد کر رہی ہے۔

پشاور

صوبہ خیبر پختون خوا کے دارالحکومت پشاور میں جمعہ کو قبائلی علاقے کے سرحد کے قریب ہونے والے مبینہ خودکش حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد دس جبکہ زخمیوں کی تعداد 48 تک پہنچ گئی ہے۔

سربند پولیس چوکی کے انچارج فصیح اللہ نے ہمارے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ زخمی ہونے والے دو مزید افراد نے ہپستال میں دم توڑ دیا ہے اور اس طرح مرنے والے کی افراد کی تعداد اب دس ہوگئی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ حملے میں 48 افراد زخمی ہوئے جو پشاور کے مختلف ہسپتالوں میں زیرِعلاج ہیں۔

پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والے بیشتر افراد کا تعلق قبائلی علاقے باڑہ سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہلاک شدگان کی تدفین ان کے آبائی علاقوں میں کردی گئی ہے۔

فصیح اللہ نے مزید بتایا کہ دھماکے کی تحقیقات کےلیے تین رکنی کمیٹی بنادی گئی ہے جس نے واقعہ کی تفتیش شروع کردی ہے۔

خیال رہے کہ پشاور کا مضافاتی علاقہ سربند قبائلی علاقے باڑہ سے چند سو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس علاقے میں پولیس اہلکاروں پر اس سے قبل بھی متعدد مرتبہ حملے ہوچکے ہیں جس میں ہلاکتیں بھی ہوچکی ہیں۔ اس مقام سے تھوڑے ہی فاصلے پر واقع سربند پولیس چوکی پر شدت پسندوں کی طرف سے کئی بار رات کی تاریکی میں راکٹ حملے کیے گئے ہیں۔

کوئٹہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بم ڈسپوزل سکواڈ کے مطابق یہ دھماکا ٹائم ڈیوائس کے ذریعے کیا گیا اور بم سائیکل میں نصب تھا

ہمارے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق کوئٹہ میں جمعہ کے روز ہونے والے بم دھماکے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

ایک پولیس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ مقدمہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے دفعات کے تحت گورنر ہاؤس کے قریب سول لائنز پولیس اسٹیشن میں نامعلوم افراد کے خلاف درج کر لیا گیا ہے۔

بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق اس دھماکے کی ذمہ داری ایک غیر معروف تنظیم احرار الہند نے قبول کی ہے۔اس تنظیم کی جانب سے بلوچستان میں پہلی مرتبہ کسی واقعے کی ذمہ داری قبول کی گئی ہے۔

پولیس کے مطابق نامعلوم افراد نے ایک سائیکل پر دھماکہ خیز مواد نصب کرکے اسے سول ہسپتال کے قریب سائنس کالج چوک پر کھڑا کیا تھا ۔ پولیس کا حکام کا کہنا ہے کہ دھماکا خیز مواد اس وقت ایک زور دار دھماکے سے پھٹا جب وہاں سے فرنٹیئر کور کی دو گاڑیاں گزر رہی تھیں۔

دھماکے میں ایف سی کے اہلکار اور ان کی گاڑیاں محفوظ رہیں تاہم ایک لوکل مسافر بس، چار رکشے اور دو گاڑیاں اس کی زد میں آگئیں۔دھماکے سے ان گاڑیوں میں آگ لگ گئی جس سے ان میں سوار ہلاک اور زخمی ہونے والے بعض افراد بری طرح سے جھلس گئے تھے۔

اسی بارے میں