پشاور:ماشو خیل سے دس قبائلیوں کا اغوا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بڈھ بیر اور ماشو خیل میں امن و امان کی صورتحال خراب ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے نواحی علاقے سے مسلح افراد نے قبائلی علاقے سے تعلق رکھنے والے دس افراد کو اغوا کر لیا ہے۔

پشاور کے دیہی علاقوں کے ایس پی رحیم شاہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی سنیچر کی صبح پشاور کے مضافاتی علاقے بڈھ بیر ماشو خیل سے مسلح شدت پسندوں نے شنواری قبیلے سے تعلق رکھنے والے دس افرد کو اغوا کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس واقعےکے بعد علاقے میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ہے اور مغویوں کی بازیابی کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔

بڈھ بیر میں طالبان مخالف امن کمیٹی کے ایک رہنما نے بی بی سی کو بتایا کہ شنواری قبیلے کے افراد سنیچر کی صبح آٹھ بجے کے قریب ڈاٹسن گاڑی میں رِنگ روڈ کی طرف جارہے تھے کہ سڑک پر پہلے سے موجود تیس سے چالیس مسلح شدت پسندوں نے ان کی گاڑی روک کر تمام افراد کو اغوا کر لیا۔

انہوں نےکہا کہ مغوی افراد ٹرانسپورٹ کے شعبے سے منسلک تھے۔

امن کمیٹی کے رہنما نے مزید بتایا کہ مغوی افراد کو کچھ عرصہ سے شدت پسندوں کی طرف سے دھمکیاں ملی رہی تھیں کہ وہ ان کے ساتھ شامل ہوجائیں یا فی گھر ماہانہ تین ہزار روپے بھتہ دیں۔

انہوں نے کہا کہ بظاہر لگتا ہے کہ مغویوں نے بھتہ دینے سے انکار کیا تھا جس پر ان کو یرغمال بنا لیا گیا۔ ان کے مطابق جس مقام پر اغوا کا واقعہ پیش آیا ہے وہاں سے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کی سرحد محض ایک کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ چند مہینوں سے قبائلی علاقے کی سرحد پر واقع پشاور کے نواحی علاقوں بڈھ بیر اور ماشو خیل میں امن و امان کی صورتحال بگڑتی جا رہی ہے۔

اس علاقے میں پچھلے دو ماہ کے دوران بیس کے قریب پولیس اور امن لشکروں کے اہلکاروں کو ہلاک کیا گیا ہے۔ گزشتہ ماہ ماشو خیل میں ہی شدت پسندوں نے امن لشکر کے رہنما کے گھر پر حملہ کرکے ایک ہی خاندان کے نو افراد کو بے دردی سے قتل کردیا تھا۔

یہاں بعض علاقے بدستور پولیس کے لیے’نو گو ایریا‘ سمجھے جاتے ہیں۔ ان علاقوں میں اغوا برائے تاوان اور ڈکیتی کی وارداتیں بھی عام ہیں اور حکومت کو ان مقامات میں اپنی عمل داری بحال کرنے میں کئی سالوں سے مشکلات کا سامنا ہے۔

اسی بارے میں