’ڈیڑھ ارب ڈالر قرض نہیں دوست ممالک کا تحفہ ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption موجودہ مالی سال کے آٹھ ابتدائی مہینوں پاکستانی معیشت میں بہتری آئی ہے: اسحاق ڈار

وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ پاکستان کو حال ہی میں ملنے والے ڈیڑھ ارب ڈالر ’دوست ممالک‘ کی جانب سے پاکستان کے عوام کے لیے تحفہ ہے۔

اسلام آباد میں قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ دوست ممالک نے پاکستان کے ترقیاتی فنڈ کے لیے ڈیڑھ ارب ڈالر کا تحفہ غیر مشروط طور پر دیا ہے۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق اسحاق ڈار نے مقامی میڈیا میں آنے والی اطلاعات کو رد کرتے ہوئے کہا کہ یہ رقم نہ تو قرضہ ہے اور نہ ہی پاکستان کی جانب سے کسی خدمات کے عوض دی گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ رقوم مختلف ترقیاتی کاموں کے لیے استعمال کی جائيں گی جس میں تونائی کے منصوبے، بنیادی ڈھانچہ، ریلوے اور دیگر مواصلاتی نظام شامل ہیں۔ انھوں نے سندھ سے ملک کے دیگر حصوں کو منسلک کرنے والے موٹر وے کا بھی ذکر کیا۔

وزیرِ خزانہ کا کہنا تھا کہ موجودہ مالی سال کے آٹھ ابتدائی مہینوں میں پاکستانی معیشت میں بہتری آئی ہے۔ انھوں نے جاپان کی بیرونی تجارتی تنظیم کے ایک سروے کا بھی حوالہ دیا جس میں پاکستان کو کاروباری ترقی کے لیے دوسرے نمبر پر رکھا گیا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل ذرائع ابلاغ میں بتایا گیا تھا کہ سعودی عرب نے حکومتِ پاکستان کو وزیرِاعظم نواز شریف کی ذاتی ضمانت پر ڈیڑھ ارب ڈالر کا قرض فراہم کیا تاکہ حکومتِ پاکستان اپنے زرِ مبادلہ کے ذخائر کو بہتر کر سکے اور اپنے قرض کی ادائیگی کی ذمہ داریوں کو ادا کر سکے۔

اس قرض کی اطلاع پاکستانی حکام نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو دی تھی جس کے نتیجے میں پاکستانی روپے کی قدر میں تیزی سے اضافہ ہوا۔

ایک ڈالر پاکستانی روپے کے مقابلے میں 105.40 کی قدر 4 سے 12 مارچ کے درمیان گر کر 97.40 تک پہنچ گئی جو کہ اس کی قدر میں 30 دن میں سب سے تیزی سے اضافہ ہے۔

دوسری جانب سعودی مرکزی بینک کے گورنر نے اس پر تبصرہ کرنے سے معذوری ظاہر کی تھی۔

ایک اور اعلیٰ اہلکار نے جو لاہور میں رہتے ہیں کہا کہ یہ رقم ایک اکاؤنٹ میں منتقل ہوئی ہے جسے پاکستان ترقیاتی فنڈ کہا جاتا ہے جو ’دوست ممالک‘ جیسا کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے رقوم کی ترسیل کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

’ہمارے پاس 3 ارب ڈالر کے وعدے ہیں جن میں سے اب تک 1.5 ارب ڈالر موصول ہو چکے ہیں‘ جبکہ ایک دوسرے اہلکار نے کہا کہ ’حال ہی میں ہمیں 750 ملین ڈالر سعودی عرب سے موصول ہوئے ہیں۔‘

اس موقعے پر وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ ’آپ کیوں ہمارے دوستوں کو منظرِ عام پر لانا چاہتے ہیں۔ جو ممالک ہماری مدد کرتے ہیں وہ نہیں چاہتے کہ ان کا نام ظاہر کیا جائے۔‘

پاکستانی وزیراعظم میاں نواز شریف کے سعودی شاہی خاندان کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں خاص طور پر جب سعودی شاہی خاندان نے ان کی دوسرے دورِ حکومت کے دوران فوجی بغاوت کے بعد جلاوطنی کے بعد پناہ فراہم کی۔

پرنس الولید بن طلال نے جو سعودی سرمایہ کار ہیں اور بیت السعود کے رکن ہیں نواز شریف کو ’پاکستان میں سعودی عرب کا اپنا آدمی‘ قرار دیا ہوا ہے۔

اسی بارے میں