سندھ: دو اضلاع کے 21 دیہات ’آفت زدہ‘ قرار

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption تھرپارکر میں قحط سالی کے حوالے سے صوبائی حکومت کی جانب سے مجرمانہ غفلت کا اعتراف کیا گیا

پاکستان کے صوبہ سندھ کی حکومت نے ضلع خیرپور کے 14 دیہاتوں اور ضلع سانگڑھ کے سات دیہاتوں کو قحط سالی جیسی صورتحال کے پیشِ نظر آفت زدہ علاقہ قرار دے دیا ہے۔

پاکستان سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق صوبائی حکومت نے ان علاقوں کی ضلعی انتظامیہ کو امدادی کارروائیاں شروع کر کے لوگوں تک اشیائے خوردونوش اور طبی سہولیات پہنچانے کا حکم جاری کیا ہے۔

یاد رہے کہ حال ہی میں صوبہ سندھ کے صحرائی ضلع تھرپارکر میں قحط سالی کی وجہ سے درجنوں بچوں کی ہلاکت پر صوبائی حکومت کی جانب سے مجرمانہ غفلت کا اعتراف کیا گیا اور صوبائی انتظامیہ کو مقامی میڈیا ہر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

تھرپارکر کے موجودہ حالات کے حوالے سے زیرِ بحث آنے والا ایک اہم عنصر حکومت کی جانب سے گندم کی تقسیم میں ’غفلت‘ تھا اور مقامی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق گندم سرکاری گوداموں میں پڑی رہی اور عوام کو بروقت مسیر نہ آ سکی تھی۔

اس معاملے پر چیف جسٹس آف پاکستان تصدق حسین جیلانی نے اس واقعے کا ازخود نوٹس بھی لیا۔ وزیراعظم نواز شریف نے وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کے ہمراہ علاقے کا دورہ بھی کیا اور امدادی کام کا جائزہ لیا۔

واضح رہے کہ پاکستان کے صحرائی علاقے تھر میں چرند اور پرند کے بعد اب انسانوں پر بھی غذائی قلت کے اثرات سامنے آئے ہیں۔ ان مشکلات کا سب سے پہلا شکار بچے بنے ہیں اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف مٹھی کے ضلعی ہپستال میں دو ماہ میں 60 بچے انتقال کر چکے ہیں۔

پاکستانی فوج کا بھی کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کے لیے فوجی دستے تھرپارکر کی جانب روانہ کیے گئے ہیں تاہم نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کے سربراہ نے کہا ہے کہ تھر میں صورتحال اتنی سنگین نہیں۔ ان کا موقف ہے کہ یہ اموات قحط سالی نہیں بلکہ دیگر وجوہات سے ہوئیں۔

ادھر صحت کے عالمی ادارے ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ تھر میں حالیہ اموات میں اضافے کا تعلق عوام کا صحت کی سہولتوں تک عدم رسائی سے ہے۔

ڈبلیو ایچ او نے اپنے جائزہ رپورٹ میں کہا ہے کہ تھر میں قریبی صحت مرکز تک پہنچنے کے لیے ایک ہزار سے چار ہزار رپے درکار ہوتے ہیں اور یہ سفر دو سے چار گھنٹوں میں طے ہوتا ہے۔

یاد رہے کہ سندھ حکومت یہ شکایت کرتی رہی ہے کہ لوگ ہپستالوں تک نہیں آتے، جس کی وجہ سے وہ صحت کی سہولیات سے محروم رہتے ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ کے فقدان کی وجہ سے لوگ ایمرجنسی میں ٹیکسی میں سفر کرتے ہیں۔

اسی بارے میں