پشاور میں ملک کے پہلے انسولین بینک کا آغاز

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق تقربناً دو کروڑ افراد ذیباطیس کے مرض میں مبتلا ہیں

پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا میں ملک کے پہلے انسولین بنک کا افتتاح کردیا گیا ہے جہاں سے محکمہ صحت کے حکام کے مطابق ذیباطیس کے مرض میں مبتلا غریب اور لاچار افراد کو علاج معالجے کے مفت سہولیات فراہم کیے جائیں گے۔

خیبر پختون خوا کے وزیرِ صحت شوکت علی یوسف زئی نے بدھ کو پشاور کے ایک بڑے طبی مرکز حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں اس پہلے انسولین بینک کا افتتاح کیا۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ ملک بالخصوص خیبر پختون خوا میں ذیباطیس کے مریضوں کی تعداد وقت کے ساتھ ساتھ تیزی سے بڑھتی جارہی ہے جو اب لاکھوں تک پہنچ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس اضافے کے پیش نظر پشاور میں ملک کے پہلے انسولین بنک کو قائم کیاگیا ہے جس کا مقصد غریب اور لاچار مریضوں کو علاج معالجے کے مفت سہولیات فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے تحت صوبے کے مختلف اضلاع میں نو انسولین کے مراکز قائم کیے گئے ہیں جہاں سے ذیباطیس کے مریضوں کو انسولین کے مفت انجکشن ملیں گے۔

صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ ابتدائی طور پر اس منصوبے کےلیے ڈھائی کروڑ روپے رکھے گئے ہیں تاہم اگر مزید ضرورت پڑی تو اس رقم میں مزید اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق تقربناً دو کروڑ افراد ذیباطیس کے مرض میں مبتلا ہیں جبکہ خیبر پختون خوا میں یہ تعداد لاکھوں میں بتائی جاتی ہے۔

دنیا بھر میں ہر دس سکینڈ میں ایک شخص ذیباطیس کی بیماری کی وجہ سے موت کے منہ میں چلا جاتا ہے جبکہ دو افراد اس مرض کا شکار بھی ہوجاتے ہیں۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس مرض میں اضافے کی بنیادی وجوہات بسیارخوری ، موٹاپہ اور جسمانی مشقت کا نہ ہونا ہے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ خیبر پختون خوا میں حکمران جماعت تحریک انصاف نے عوام کو صحت کے بہتر سہولیات فراہم کرنے کےلیےگذشتہ چند ماہ کے دوران صحت کے شعبے میں کئی اصلاحات کیں ہیں۔

اسی بارے میں