شکارپور: جرگہ کرنے پر رکن قومی اسمبلی کے خلاف مقدمہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سپریم کورٹ کی طرف سے از خود نوٹس کے بعد شکار پور پولس نے جرگہ کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج کیا

صوبہ سندھ کے ضلع شکار پور میں پولس نے ایک سابق وفاقی وزیر اور رکن قومی اسمبلی غوث بخش مہر، جاگیرانی قبیلے کے معزز شخص حاجی بخش جاگیرانی اور دیگر گیارہ افراد کے خلاف قتل کے معاملے پر غیر قانونی جرگہ کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا ہے۔

یہ مقدمہ بدھ کو لکھی غلام شاہ تھانے میں درج کیا گیا ہے۔

ایس ایس پی نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے پولیس پارٹی تشکیل دی ہے جو ملزمان کی گرفتاریاں عمل میں لائے گی۔

ضلع پولس سربراہ الطاف لغاری نے بی بی سی کو بتایا کہ 16 مارچ کو غوث بخش مہر نے دیگر لوگوں کے ساتھ مل کر ایک جرگہ کیا جس میں مہر برادری کے دو لڑکیوں کے قتل کا تصفیہ کیا گیا اور جاگیرانی قبیلے کو لڑکیوں کے اغوا اور قتل کا ذمہ دار قرار دیا گیا اور انھیں چوبیس لاکھ روپے کے جرمانہ کیا گیا۔

خیال رہے کہ سندھ میں ہائی کورٹ سکھر سرکٹ نے وکیل شبیر شر کی درخواست پر سنہ 2005 میں جرگے منعقد کرنے کے خلاف فیصلہ دیا تھا جس میں پابندی عائد کی گئی تھی کہ قتل کے کسی معاملے پر جرگوں میں فیصلے نہیں کیے جائیں گے۔

ہائی کورٹ کے اس وقت کے جج رحمت حسین جعفری کے اس فیصلے کے خلاف قبائلی سردار مسلسل جرگے کرتے رہے ہیں۔

ایس ایس پی کا کہنا ہے کہ مہر برادری کی دو لڑکیاں پسند کی شادی کی غرض سے اپنے گھر سے جاگیرانی لڑکوں کے ساتھ چلی گئی تھیں لیکن قبیلے کے بڑوں نے دونوں لڑکیوں کو دوسرے دن لڑکیوں کو مہروں کے حوالے کر دیا تھا۔

دونوں لڑکیوں کو ان کے چچا زاد بھائی ثنا اللہ نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا اور دفنا دیا تھا لیکن جرگے میں ان کے قتل کا ذمہ دار جاگیرانی قبیلے کو قرار دیا گیا تھا۔

ایس ایس پی کا کہنا ہے کہ پولس نے جرگے کی اطلاع ملنے پر مقدمہ درج کر لیا تھا۔ ایس ایس پی کے مطابق مقدمے میں جعلی جج کے طور پر اپنے آپ کو پیش کرنے کا الزام بھی ہے۔

علاقے کے صحافیوں کو کہنا ہے کہ ایک لڑکے کے والد ماسٹر عبداللہ مہر نے اپنی بیٹی اور بھتیجی کے قتل کے رپورٹ درج کرائی تھی۔رپورٹ درج ہونے کے بعد جاگیرانیوں نے مہروں سے رابطہ قائم کیا اور غوث بخش مہر کی سربراہی میں جرگہ کیا گیا۔

سپریم کورٹ نے مہر لڑکیوں کے قتل کا از خود نوٹس لیتے ہوئے 20 مارچ کو آئی جی پولیس کو اس اس معاملے سے متعلق وضاحت کے لیے طلب کیا ہے۔

سپریم کورٹ کی طرف سے از خود نوٹس کے بعد شکار پور پولس نے جرگہ کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔

شکار پو ر سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے ایک سرگرم کارکن اقبال ڈیٹھو کا کہنا ہے ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد جرگہ کرنے والے سردار اور دیگر لوگ فیصلوں کی کاپی لوگوں کے حوالے نہیں کرتے ہیں۔ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی قسم کا کوئی ثبوت نہ رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جرگہ منعقد ضرور ہوا تھا۔

شکار پور ضلع میں ہی سنہ 2003 میں بھٹو برادری کی دو لڑکیوں کو ان کی برادری کے ایک شخص نے جرگہ کر کے قتل کرا دیا تھا۔ اس معاملے کو بھی دبا دیا گیا تھا اور جرگہ کرنےو الوں کو ایک طرح سے معافی مل گئی تھی۔

ضلع سانگھڑ میں دس روز قبل ہی ایک لڑکی صغرا بروہی کو پسند کی شادی کرنے کے الزام میں قتل کر دیا گیا تھا۔صغرا کے قتل کا مقدمہ اس کے والد نے اپنے بھائی اور ان کے بیٹے کے خلاف درج کرایا تھا۔

اسی بارے میں