کراچی: مستقل آئی جی کی تعیناتی کا حکم

Image caption سپریم کورٹ نے چوبیس گھنٹے میں آئی جی کی تعیناتی کر کے نوٹیفیکیشن عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا

پاکستان کی سپریم کورٹ نے چوبیس گھنٹوں کے اندر کراچی میں مستقل انسپکٹر جنرل آف پولیس کی تعیناتی کا حکم دیا ہے۔

کراچی میں چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی، جسٹس خلجی عارف حسین اور جسٹس امیر ہانی مسلم پر مشتمل بینچ نے جمعرات کو کراچی بدامنی کیس کے فیصلوں پر عملدرآمد کے معاملے کی سماعت کی۔

چیف جسٹس تصدیق حسین جیلانی نے رینجرز کے وکیل سے دریافت کیا کہ انہیں کیا شکایت اور خدشات ہیں کہ ڈی جی رینجرز کہہ رہے ہیں کہ انہیں جو اختیارات ملے ہیں وہ محض کاغذ کا ٹکڑا ہیں۔

رینجرز کے وکیل شاہد انور باجوہ نے عدالت کو بتایا کہ پولیس اور رینجرز کی مشترکہ تفتیش کے لیے شہر کے پانچ اضلاع میں تھانے بنانے کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن تاحال اس کا نوٹیفیکیشن جاری نہیں کیا گیا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ رینجرز نے آپریشن میں 517 ملزمان کو گرفتار کیا جنھیں ضمانت مل گئی۔ عدالت نے رینجرز کے وکیل کو ہدایت کی کہ وہ اپنی شکایات اور تجاویز تین روز میں پیش کریں۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے ریمارکس دیے کہ لگتا ہے قانون نافذ کرنے والے اداروں میں تعاون کا فقدان ہے اور بڑے بڑے دہشت گردوں کو ٹی ٹی پستول کے مقدمے میں گرفتار دکھایا جا رہا ہے۔

اس پر ایڈیشنل آئی جی اقبال محمود نے عدالت کو بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں میں مکمل تعاون ہے اور وہ اپنے اپنے دائرۂ کار میں فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے ان سے سوال کیا کہ وہ مستقل ہوئے یا ابھی تک ایڈیشنل ہیں جس پر اقبال محمود نے بتایا کہ ان کے پاس اضافی چارج ہے۔ اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اس سے وفاقی اور صوبائی حکومت کی سنجیدگی نظر آتی ہے کہ مستقل آئی جی کی تقرری نہیں ہو سکی ہے۔

انہوں نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ چوبیس گھنٹے میں آئی جی کی تعیناتی کر کے نوٹیفیکیشن عدالت میں پیش کیا جائے۔

ایڈوکیٹ جنرل فتاح ملک نے سماعت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں امن و امان میں سندھ حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں ہے، آئی جی اور چیف سیکریٹری کی تعیناتی وفاق کرتا ہے، ڈسٹرکٹ مینیجمنٹ گروپ کے افسران بھی صوبے کے ماتحت نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے تحت آئی جی کی تعیناتی کا اختیار صوبے کو ہے لیکن اسے یہ حق نہیں دیا جاتا ہے۔

تھر میں قحط سالی

دوسری جانب سپریم کورٹ میں جمعرات کو تھر میں قحط اور بچوں کی ہلاکت کے از خود نوٹس کی بھی سماعت ہوئی۔

سماعت میں چیف سیکریٹری سجاد سلیم ہوتیانہ نے عدالت کو بتایا کہ دسمبر 2013 میں صحت کے عالمی ادارے نے تھر میں قحط سالی کے بارے میں آگاہی دی تھی، جس کے بعد ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں وزیراعلیٰ نے تمام متعلقہ محکموں کو اقدامات کی ہدایت کی تھی۔

سیکریٹری صحت اقبال درانی نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے اٹھائیس ڈاکٹروں کو تھر میں تعینات کیا، جن میں سے صرف آٹھ نے جوائن کیا جبکہ دیگر کو اظہارِ وجوہ کے نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ میڈیکل کے طلبا کو چھ ماہ کے لیے تھر میں تعینات کریں اور جو نہ جائیں انہیں ڈگری نہ دی جائے۔

عدالت نے چیف سیکریٹری کو ہدایت کی کہ محکمۂ آبپاشی سے مشاورت کر کے تین ہفتوں میں عدالت میں رپورٹ پیش کی جائے کہ تھر میں یہ صورتحال کیوں پیش آئی اور اس کا مستقل حل کیا ہے؟ ۔

اسی بارے میں