’جسقم رہنماؤں کی موت گولیاں لگنے سے ہوئی‘

Image caption جمعہ کی صبح نوشہرو فیروز کے علاقے بھریا کے قریب آتشزدگی کا شکار ہونے والی ایک کار سے جیئے سندھ قومی محاذ کے مرحوم چیئرمین بشیر قریشی کے چھوٹے بھائی مقصود قریشی اور سلمان ودھو کی لاشیں ملی تھیں

سندھ کی قوم پرست جماعت جیئے سندھ قومی محاذ کے رہنما مقصود قریشی اور سلمان ودھو کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دونوں افراد کی موت گولیاں لگنے کی وجہ سے ہوئی جس کے بعد لاشوں کو جلایا گیا۔

دونوں کی لاشیں گزشتہ شب نوشہرو فیروز سے کراچی منتقل کی گئی تھیں، جہاں جناح ہپستال میں ان کا چار ڈاکٹروں پر مشتمل ٹیم نے پوسٹ مارٹم کیا۔

ٹیم کے سربراہ پولیس سرجن ڈاکٹر جلیل قادر کا کہنا ہے کہ ’دونوں کی موت گولیاں لگنے سے ہوئی ہیں، ایک لاش کو چار اور دوسری کو ایک گولی لگی ہوئی ہے، یہ گولیاں کتنے فاصلے سے چلائی گئی ہیں اس کا تعین نہیں ہوسکا ہے۔‘

ڈاکٹر جلیل نے بتایا کہ موت کے بعد لاشوں کو جلایا گیا ہے، دونوں لاشیں بری طرح جل چکی ہیں اور ناقابل شناخت ہیں، اس لیے انہوں نے دونوں کے نمونے حاصل کیے ہیں جن کا اسلام آباد کی لیبارٹری سے ڈی این اے ٹیسٹ کرایا جائے گا۔

یاد رہے کہ جمعہ کی صبح نوشہرو فیروز کے علاقے بھریا کے قریب آتشزدگی کا شکار ہونے والی ایک کار سے جیئے سندھ قومی محاذ کے مرحوم چیئرمین بشیر قریشی کے چھوٹے بھائی مقصود قریشی اور سلمان ودھو کی لاشیں ملی تھیں۔

جائے وقوع کے قریبی گاؤں بھببھو خان کے رہائشی لوگوں نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ انہوں نے صبح سویرے گولیاں چلنے کی آوازیں سنی تھیں جبکہ کار پر بھی گولیوں کے نشان پائے گئے ہیں، مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ سڑک پر کار کی بریک کے نشانات بھی نہیں جبکہ سی این جی گیس سلینڈر بھی سالم حالت میں تھا۔

بھریا روڈ میں سندھی اخبار روزنامہ کاؤش کے نامہ نگار الطاف حسین کیریو جائے وقوع پر سب سے پہلے پہنچے، انہوں نے بتایا کہ انہیں ان کے بھتیجے شاہد حسین نے صبح ساڑہ چھ بجے اطلاع دی تھی کہ پکا چانگ روڈ پر ایک کار جل رہی ہے، جس میں دو لاشیں بھی موجود ہیں، جس کے بعد وہ دس منٹ میں وہاں پہنچ گئے۔

الطاف حسین کیریو کا کہنا ہے کہ جب وہ جائے وقوع پر پہنچے تو سڑک کے سائیڈ پر کار جل رہی تھی، جس کا رخ بھریا شہر کی جانب تھا، کار کی اگلی نشست پر ایک لاش موجود تھی، جس کا سر اسٹیئرنگ والی جانب تھا جبکہ پچھلی نشست پر دوسری لاش موجود تھی۔

گاڑی کی ڈگی میں بڑی تعداد میں کاغذ موجود تھے جو جل رہے تھے، انہوں نے پولیس کو اطلاع کی، جو لاشیں پوسٹ مارٹم کے لیے لے گئے۔

دریں اثنا نوابشاہ، دادو، لاڑکانہ، خیرپور، شاہ پور چاکر، بھریا، محرابپور سمیت کئی شہروں میں سنیچر کو دوسرے روز بھی کاروبار بند ہے، جبکہ قوم پرست جماعتوں کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔

جئے سندھ قومی محاذ نے اعلان کیا ہے کہ اتوار کو کراچی میں ہر صورت میں فریڈم مارچ کیا جائے گا اور اس موقعے پر مقصود قریشی اور سلمان ودھو کی نمازے جنازہ بھی ادا کی جائیگی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو اور شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے بھی واقعے کی مذمت کی ہے اور صوبائی حکومت کو تحقیقات کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

سندھی میڈیا نے اس واقعے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے، اخبارات نے شہہ سرخیوں کے ساتھ یہ اور اس سے متعلقہ خبریں شایع کی ہیں، جبکہ کالم نویسوں نے بھی سندھ میں ایسے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

سندھی دانشور جامی چانڈیو لکھتے ہیں ’جن لوگوں نے مقصود قریشی کا قتل کیا ہے وہ شاید یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ یہ ایک فرد کا قتل نہیں بلکہ ایک قوم کے جذبات، مفادات اور اجتماعی شعور پر وار ہے، جس کا رد عمل کسی ایک دن سامنے نہیں آتا ہے، ان قوتوں کو یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ ایک فرد کو جلا کر یا مارکر ختم کیا جاسکتا ہے لیکن سوچ کو نہیں۔‘

نوجوان کالم نویس لطیف جمال لکھتے ہیں کہ ’مقصود قریشی کی موت ریاستی اداروں کو ایکسپوز کرتی ہے، کیونکہ کراچی میں سندھیوں کا جمع ہوکر اپنی اکثریت ثابت کرنا انہیں پسند نہیں ہے۔‘

لطیف جمال کا کہنا ہے کہ ریاست سے بلوچستان کی بیزاری ریاستی تشدد کا نتیجہ ہے لیکن اگر یہ آگ سندھ میں بھڑکائی گئی تو کوئی بھی معاہدہ اور پیکیج اس کو روک نہیں پائے گا۔

اسی بارے میں