طالبان سے ملاقات کا مقام ’پیس زون‘ ہو گا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption مذاکرات سے قبل طالبان نے فری پیس زون اور اپنے قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے

پاکستانی حکومت اور طالبان کی جانب سے نامزد کردہ کمیٹیوں کے اراکین کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا جس میں اب تک صرف اگلی ملاقات کی جگہ تعین کیا گیا ہے۔

اس سے قبل پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے حکومت اور کالعدم تحریکِ طالبان کے درمیان مذاکرات کا عمل آگ بڑھانے کے لیے حکومتی اور طالبان کمیٹیوں کا مشترکہ اجلاس سنیچر کو طلب کیا تھا۔

اسلام آباد میں ہونے والے اس اجلاس کے بعد بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مولانا یوسف شاہ نے بتایا کہ طالبان سے ملاقات کے لیے جگہ کا تعین ہوگیا ہے اور دو تین روز میں دونوں کمیٹیوں کے ارکان طالبان سے مذاکرات کے لیے معینہ مقام پر جائیں گے۔

اس کے علاوہ طالبان کی نامزد کردہ کمیٹی کے رکن مولانا سمیع الحق نے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ جگہ کا تعین ہوگیا ہے لیکن جگہ کا نام بتانے سے اجتناب کیا۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے لیے جگہ پر اتفاق متفقہ طور پر کیا گیا ہے۔ مذاکرات کے لیے طے کیا جانے والا مقام ’پیس زون‘ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کے پیش نظر جگہ کا نام نہیں بتاسکتے۔

اس سے قبل طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے بنائی گئی سابقہ حکومتی کمیٹی کے رکن میجر محمد عامر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’طالبان نے مذاکرات کے لیے جنوبی وزیرِستان میں فری پیس زون قائم کرنے کا مطالبہ کیا تھا جبکہ میری معلومات کے مطابق حکومت کی طرف سے مذاکرات کے لیے جنوبی وزیرِستان کے پولیٹکل ایجنٹ کے دفتر اور بنوں ایئرپورٹ کی تجویز طالبان کو بھیج دی گئی ہے۔‘

حکومتِ پاکستان سے مذاکرات کرنے والی طالبان کی نمائندہ کمیٹی کے رکن اور جماعتِ اسلامی خیبر پختونخوا کے صدر پروفیسر ابراہیم نے 16 مارچ کو پشاور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ طالبان اور حکومتی کمیٹیوں کے درمیان مذاکرات کے لیے بنوں ایئرپورٹ، ایف آر بنوں اور وزیرستان کے علاقوں پر غور ہو رہا ہے۔

تحریک طالبان کی کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے 14 مارچ کو طالبان کمیٹی کے ارکان کی وزیرِستان میں طالبان رہنماوں سے ملاقات کے بعد واپسی پر کہا تھا کہ طالبان حکومت سے براہ راست مذاکرات کرنے پر تیار ہیں اور آئندہ چند دنوں میں طالبان اور حکومتی نمائندہ آمنے سامنے بیٹھ کر باقاعدہ مذاکرات شروع کر سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ پروفیسر ابراہیم خان، مولانا یوسف شاہ اور مولانا عبدالحئی پر مشتمل طالبان کمیٹی کے اراکین 13 مارچ کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے شمالی وزیرستان پہنچے تھے اور انھوں نے طالبان کی شوریٰ کے ساتھ نامعلوم مقام پر مذاکرات کیے تھے۔

طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے پورٹس اور شیپنگ کے وفاقی سیکریٹری حبیب اللہ خان خٹک، ایڈیشنل چیف سیکریٹری فاٹا ارباب محمد عارف، وزیرِاعظم سیکریٹریٹ میں ایڈیشنل سیکریٹری فواد حسن فواد اور پی ٹی آئی کے رستم شاہ مہمند پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی ہے۔

مذاکرات سے قبل طالبان نے فری پیس زون اور اپنے قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے جن بقول ان میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔ حکومت کا موقف ہے کہ خواتین اور بچے زیرِ حراست نہیں ہیں۔

وزیرِاعظم پاکستان نواز شریف نے بھی 13 مارچ کو کہا تھا کہ طالبان کے مطالبات پر غور ہو رہا ہے لیکن آئین اور قانون سے بالاتر کسی بھی مطالبے کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں