کابل ہوٹل حملے کی ذمہ دار ’غیر ملکی خفیہ ایجنسی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جمعرات کے روز دارالحکومت کابل کے فائیو سٹار ہوٹل سرینا میں مسلح حملہ آوروں کی فائرنگ سے کم سے کم نو افراد ہلاک ہو گئے تھے

افغانستان میں حکام کا کہنا ہے کہ کابل کے فائیو سٹار ہوٹل سرینا پر حال ہی میں ہونے والا حملہ ’غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں‘ کی منصوبہ بندی سے کیا گیا ہے۔

افغان نیشنل سکیورٹی کونسل کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ حملے سے ایک روز قبل ایک پاکستانی سفارتکار ہوٹل کی راہ داریوں کی تصاویر کھینچتے دیکھا گیا تھا۔

کابل:سرینا ہوٹل پر حملہ، نو افراد ہلاک

کابل میں نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ افغان حکام کے بیان میں پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی پر پوشیدہ انداز میں الزام لگایا گیا ہے۔

یاد رہے کہ جمعرات کے روز دارالحکومت کابل کے فائیو سٹار ہوٹل سرینا میں مسلح حملہ آوروں کی فائرنگ سے کم سے کم نو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اس سے قبل افغان حکومت کا کہنا تھا کہ اس حملے کی وجہ پاکستان میں تحریکِ طالبان پاکستان اور حکومت کے درمیان فائر بندی ہے۔ افغان حکومت کے خیال میں اس فائر بندی سے پاکستان میں طالبان کو یہ موقع مل گیا ہے کہ وہ اپنی توجہ افغانستان پر مرکوز کر سکیں۔

کابل سے بی بی سی کے نامہ نگار ڈیوڈ لیون کا کہنا ہے کہ افغان حکام عموماً اپنی اس رائے کا اظہار نہیں کرتے کہ پاکستان افغانستان میں پر تشدد کارروائیوں کا ذمہ دار ہے مگر یہاں یہ تاثر ضرور پایا جاتا ہے۔

نامہ نگار کا کہنا ہے تاہم وزارتِ داخلہ کے ترجمان صدیق صدیقی نے انتہائی واضح انداز میں افغان انتخابی مہم کے دوران پاکستانی فائر بندی کو دہشتگردی کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

’حملہ آووروں کی عمریں 18 سال سے کم تھیں‘

Image caption یہ ہوٹل کابل میں غیر ملکیوں میں بہت مقبول ہے اور شہر کے محفوظ ترین علاقے میں واقعہ ہے

افغانستان کے نائب وزیر داخلہ جنرل محمد ایوب سالنگی کے مطابق مرنے والوں میں چار غیر ملکی اور دو بچے بھی شامل تھے جبکہ چھ افراد زخمی ہوئے۔ افغان سپیشل فورسز کی کارروائی میں چاروں حملہ آور بھی مارے گئے۔

ہلاک ہونے والوں میں کینیڈا اور نیوزی لینڈ سے دو خواتین، پاکستان اور بھارت سے دو مرد شامل تھے۔

یہ ہوٹل غیر ملکیوں میں کافی مقبول ہے۔ طالبان نے جمعرات کی شام کیے گئے اس حملے کی ذمہ دار قبول کر لی تھی۔

پاکستان کی جانب سے ان الزامات پر ابھی تک کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا ہے۔

حکام کے مطاق حملہ آور نوجوان تھے اور انہوں نے پسٹلز اپنی جرابوں میں چپھا رکھے تھے۔

یہ لوگ شام چھ بجے ہوٹل میں داخل ہوئے اور نئے سال کے موقع پر نوروز کے لیے خصوصی کھانے کی خواہش ظاہر کی۔ جس کے بعد تین گھنٹے غسل خانے میں چھپے رہے اور عین رات کے کھانے کے وقت باہر آ کر فائرنگ شروع کر دی۔

زخمیوں میں افغان ممبر پارلیمان حبیب افغان بھی شامل ہیں۔ ان کے چہرے، پیٹ اور ٹانگ میں گولیاں لگی ہیں۔

افغان وزراتِ کے مطابق گارڈ سے ملنے والے معلومات کے مطاقب حملے آوروں کی عمریں 18 سال سے کم تھیں۔

حملے کے فوراً بعد عمارت کو سکیورٹی اہلکاروں نے گھیر لیا اور کارروائی میں حملہ آور مارے گئے۔

سرینا ہوٹل صدارتی محل اور دیگر سرکاری عمارتوں سے ایک کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر واقع ہے۔ یہاں اقوامِ متحدہ کا عملہ بھی قیام پذیر ہے جو آئندہ ماہ ہونے والے صدارتی انتخابات کی نگرانی کرے گا۔

اسی بارے میں