کیا اور کیوں فتح کرنا چاہتے ہو؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پاکستان جو انسانی ترقی کی عالمی فہرست میں ایک سو چھیالیسویں نمبر پر ہونے کے ناطے چین اور بھارت سے بھی پیچھے ہے

معاشیات کے نوبیل انعام یافتہ بھارتی پروفیسر امرتیا سین اور سرکردہ پاکستانی ماہرِ اقتصادیات ڈاکٹر محبوب الحق نے انیس سو نوے میں یہ نظریہ پیش کیا کہ کسی ملک کی ترقی ماپنے کا فارمولا کل قومی پیداوار و آمدنی دیکھنے کے بجائے یہ ہونا چاہیے کہ ایک عام شہری قومی دولت و ترقی میں کتنا حصہ دار ہے۔

اس ملک کی کتنی آبادی تعلیم یافتہ ، صحت مند ، طویل العمر ہے اور اس آبادی کا عمومی معیارِ زندگی کیا ہے۔ اس نظریے کے تحت ہر سال انسانی ترقی کی ایک عالمی فہرست جاری کی جاتی ہے تاکہ حقیقی ترقی کا اندازہ ہوسکے۔

گذشتہ برس اس فہرست میں اقوامِ متحدہ کے ایک سو ترانوے رکن ممالک میں سے ایک سو ستاسی ممالک کو انسانی ترقی کے اعتبار سے جو پوائنٹس دیے گئے ان میں سب سے زیادہ سکور ناروے کا ہے۔ اس نے ایک ہزار میں سے نو سو پچپن پوائنٹس حاصل کیے ہیں جبکہ سب سے کم سکور افریقی ملک نائجر اور کانگو کا ہے جنہوں نے صرف تین سو چار پوائنٹس حاصل کیے۔

مگر انسانی ترقی کے اعتبار سے سب سے اول ملک ناروے دفاعی اخراجات کی فہرست میں ستائسویں نمبر پر ہے۔ جبکہ انسانی ترقی کی عالمی فہرست میں ایک سو چھتیسویں نمبر پر آنے والے ملک بھارت نے پچھلے پانچ برس میں اپنے دفاعی اخراجات میں ایک سو گیارہ فیصد کا اضافہ کیا اور اس دوران عالمی اسلحہ منڈی کا چودہ فیصد اسلحہ خریدا۔

چین حالانکہ انسانی ترقی کی عالمی فہرست میں ایک سو ایک ویں نمبر پر ہے مگر اسلحے کا دوسرا بڑا عالمی خریدار ہے اور اس نے اسلحہ منڈی کا پانچ فیصد اسلحہ خریدا۔

جبکہ پاکستان جو انسانی ترقی کی عالمی فہرست میں ایک سو چھیالیسویں نمبر پر ہونے کے ناطے چین اور بھارت سے بھی پیچھے ہے ۔اس کے دفاعی اخراجات میں پچھلے پانچ برس کے دوران ایک سو انیس فیصد اضافہ ہوا اور اس نے عالمی منڈی سے چین کے برابر یعنی پانچ فیصد اسلحہ خریدا۔

ان تینوں کے بعد گذشتہ پانچ برس میں سب سے زیادہ اسلحہ خریدنے والے ممالک میں بالترتیب متحدہ عرب امارات ، سعودی عرب ، امریکہ ، آسٹریلیا اور جنوبی کوریا ہیں۔

چلیے آسٹریلیا جو انسانی ترقی کی عالمی فہرست میں دوسرے ، امریکہ تیسرے ، جنوبی کوریا بارہویں ، متحدہ عرب امارات اکتالیسویں اور سعودی عرب ستاونوے نمبر پر ہے۔ یہ ممالک تو اپنے وسائل یا ترقی کے بل پر جو چاہے خرید سکتے ہیں۔ ان کے پاس یہ بھی جواز ہے کہ اپنی ترقی اور قدرتی یا صنعتی دولت کے تحفظ کے لیے جدید، پیچیدہ، مہنگے عسکری کھلونے درکار ہیں۔ مگر بھارت، چین اور پاکستان جیسے ممالک جو انسانی ترقی کی فہرست میں میلوں دور ہیں۔ وہ کس خطرے سے خود کو بچانے کے لیے اسلحے کے تین چوٹی کے عالمی گاہکوں میں شامل ہیں؟

تو کیا اسلحے کا سب سے بڑا عالمی گاہک بھارت دوسرے بڑے گاہک اور اپنے سب سے بڑے تجارتی پارٹنر چین کو چھیاسٹھ ارب ڈالر سالانہ کی دوطرفہ تجارت کے باوجود عسکری طور پر فتح کرنا چاہتا ہے؟ کیا چین ایشیا کی دوسری بڑی عسکری طاقت بھارت پر قبضہ کرنا چاہتا ہے؟ کیا اسلحے کا تیسرا بڑا گاہک پاکستان دوسرے بڑے گاہک چین کی مدد سے پہلے بڑے گاہک بھارت کو اسلحے کی شاپنگ میں ہرانا چاہ رہا ہے؟ تینوں ممالک کے پاس جو ایٹمی گودام ہیں وہ ان کا احساسِ عدمِ تحفظ ختم کرنے کے لیے کیوں کافی نہیں؟

بھارتی وزیرِ اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ کے بقول ملک کو اس وقت بیرونی سے زیادہ نکسل تحریک کی شکل میں اندرونی خطرہ لاحق ہے۔ اگر یہ درست ہے تو کیا اسلحے کے سب سے بڑے عالمی خریدار بھارت کو کلاشنکوف بردار نکسل شدت پسندوں یا کشمیری علیحدگی پسندوں سے نمٹنے کے لیے بین البراعظمی میزائلوں، نئے طیارہ بردار جہازوں اور مزید ایٹمی آبدوزوں کی ضرورت ہے؟ یا بھارت کو اپنے پنتیس سے چالیس فیصد انتہائی اور باقی چالیس فیصد کم غریبوں کے تحفظ کے لیے اس قدر اسلحہ چاہیے کہ وہ اول نمبر کا عالمی خریدار بن جائے؟

چین کا جاپان کے ساتھ تنازعہ دو ایسے جزیروں پر ہے جو نقشے پر بھی بمشکل دکھائی دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان سے متصل شن جیانگ صوبے میں اوغر مسلمان علیحدگی پسندوں کی محدود چھاپہ مار اور دہشت گرد کارروائیوں کا بھی اسے سامنا ہے۔ تو کیا دونوں خطرے اتنے بڑے ہیں کہ ان کے لیے عالمی اسلحہ منڈی کا پانچ فیصد مال اٹھا لیا جائے؟ کیا چین مقروض نواب امریکہ کا سب سے بڑا ساہوکار ہونے سے بھی اکتا گیا ہے یا پانچ سو باسٹھ بلین سالانہ کی دو طرفہ منافع بخش تجارت کے ہوتے ہوئے بھی اسلحے کی دوڑ میں امریکہ کو پیچھے چھوڑنا چاہ رہا ہے۔ یا پھر چین اس لڑکے کی طرح خود کو محسوس کررہا ہے جو اپنی تازہ تازہ آسودہ حالی کا ثبوت نئی موٹر سائیکل کا سائلنسر نکلوا کر دیتا ہے تاکہ سارے محلے کو پتہ چل جائے؟

پاکستان پچھلے پانچ برس میں دنیا کا تیسرا بڑا اسلحہ خریدار بننے کے باوجود بارود بردار طالبان کے ہاتھوں سخت تنگ ہے۔ اور تو اور گھاس کی چپل پہننے والے بلوچ علیحدگی پسند بھی ساتویں بڑی عالمی فوج کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے۔ تو پھر ایسی مہنگی ، مشکل ادھاری خریداری کس کے لیے؟ ایران کے لیے؟ افغانستان کی تصوراتی عسکری گہرائی کے حصول کے لیے یا پھر سٹیٹس سمبل اور شپ شپا کے لیے؟

تو کیا پاکستان اسلحے کا تیسرا بڑا عالمی خریدار بن کر یقینی بنانا چاہتا ہے کہ تھر کے بھوکے کہیں بھاگ نہ جائیں۔ سکولوں سے باہر رلنے والے پچاس فیصد بچوں کو کوئی بیرونی دشمن اغوا نہ کر لے جائے۔ سرکاری ہسپتالوں کے کاریڈورز میں پاؤں رگڑنے والے مریضوں کے حقوق کوئی پاکستان دشمن ہندو، یہودی، عیسائی عالمی سازشی گروہ غصب نہ کر بیٹھے۔ یا اتنا اسلحہ اس لیے خریدا جارہا ہے کہ ایٹمی اثاثوں کی حفاظت اور بہتر ہوجائے۔ اقلیتوں کی عبادت گاہوں، املاک اور لڑکیوں کی جانب کوئی اندرونی و بیرونی حریف میلی آنکھ سے نہ دیکھ لے یا یہ کہ میرا موبائل فون کوئی چھچورا وارداتی تیسری دفعہ زنگ آلود پستول دکھا کے نہ چھین بھاگے۔

اچھا تو قبلہ بھارت مان لیا کہ آپ اسلحے کے خریداروں میں اول نمبر ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھی ہیں۔ اور بھائی چین آپ صرف اسلحے کے دوسرے بڑے عالمی خریدار نہیں بلکہ دوسری بڑی عالمی معیشت بھی ہیں اور محترم پاکستان آپ صرف اسلحے کے تیسرے بڑے خریدار نہیں بلکہ پہلی مسلمان ایٹمی طاقت بھی ہیں۔ اب یہ فرمائیے کہ آپ لوگ پوری عمر انہی کامیابیوں پر سینہ پھلا کر گزاریں گے یا پھر مجموعی اور حقیقی انسانی ترقی کی عالمی فہرست میں بھی پہلے دوسرے اور تیسرے نمبر پر آنے کی سوچیں گے؟

اسی بارے میں