کراچی: جئے سندھ قومی محاذ کی فریڈم مارچ

Image caption فریڈم مارچ سے جئے سندھ قومی محاذ کے چیئرمین صنعان قریشی نے خطاب کیا

پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں قوم پرست جماعت، جئے سندھ قومی محاذ کی جانب سے اتوار کی شام فریڈم مارچ کیا گیا۔ تنظیم کے چیئرمین صنعان قریشی اور وائس چیئرمین ڈاکٹر نیاز کالانی کی قیادت میں اس فریڈم مارچ کا آغاز گلشن حدید سے ہوا اور شرکا ’پاکستان نہ کھپے اور سندھ مانگ رہا ہے آزادی‘ کے نعرے لگاتے ہوئے شاہراہ فیصل سے تبت سینٹر پہنچے۔

اس مارچ میں جئے سندھ متحدہ محاذ، جئے سندھ محاذ، قومی عوامی تحریک، سندھ یونائٹیڈ پارٹی اور سندھ ترقی پسند پارٹی کے کارکنوں نے بھی شرکت کی، جبکہ سندھ بھر سے کارکن قافلوں کی صورت میں شامل ہوئے اور ایم اے جناح روڈ سرخ جھنڈوں سے لال ہوگئی۔

دوسری جانب اس مارچ کے اس دوران نشتر پارک میں جماعت اسلامی کا نظریہ پاکستان کنوینشن منعقد ہوا، جس سے جماعت کے امیر منور حسن نے خطاب کیا جبکہ جماعت دعوۃ کی جانب سے سفاری پارک سے لیکر پریس کلب تک ریلی نکالی گئی۔

فریڈم مارچ سے جئے سندھ قومی محاذ کے چیئرمین صنعان قریشی نے خطاب کیا اور عالمی دنیا سے اپیل کی کہ آزادی کے حصول میں سندھیوں کی مدد کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ کیونکہ سندھ ہمیشہ ایک آزاد اور خود مختار ریاست رہی ہے لیکن جب سے اس کو پاکستان میں شامل کیا گیا پنجاب سے اس سے ناانصافیوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔

جئے سندھ قومی محاذ کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ بیاسی فیصد گیس اور انسٹھ فیصد پیٹرول اور مرکز کو اسی فیصد روینیو دینے والے صوبہ سندھ کے علاقے تھر میں بچے بھوک سے مر رہے ہیں جبکہ اکسٹھ لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پچیس لاکھ ایکڑ زمین جو سندھی ہندو چھوڑ گئے تھے، اس پر جعلی دعوں کی بنیاد پر قبضہ کیا گیا اور اسی طرح کوٹڑی اور گدو بیراج بناکر بیس لاکھ ایکڑ زمین پنجاب اور خیبر پختونخواہ کے فوجیوں میں کوڑیوں کے مول تقسیم کردی گئی۔

صنعان قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان آج عالمی امن کے لیے حظرہ بن چکا ہے، دنیا نے طالبان اور پنجابی طالبان نام سنا ہوگا لیکن کبھی سندھی طالبان نہیں سنا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ کیونکہ وادی سندھ کے لوگ پر امن ہیں، جن کو حقوق سے محروم کرکے وسائل پر قبضہ کیا گیا ہے۔

سندھ کی آزادی میں یقین رکھنے والی قوم پرست جماعت جئے سندھ قومی محاذ نے اپنے فریڈم مارچ کے لیے تئیس مارچ کا انتخاب کیا۔ اس مارچ کی تیاریوں کے دوران تنظیم کے رہنما مقصود قریشی اور سلمان ودھو کا پراسرار حالات میں قتل کا سامنے آیا۔ حیدرآباد سے آنے والے ایک کارکن کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ مارچ روکنے کی سازش تھی۔

’دو ہزار میں اسی طرح فریڈم مارچ میں انیس سو چالیس کی قرار داد پاکستان کو مسترد کیا گیا، اس کے جواب میں بشیر قریشی کو شہید کیا گیا، اس بار جب یہ مارچ منعقد کیا جا رہا تھا تو ہمارے رہنما اور بشیر قریشی کے بھائی مقصود قریشی اور سلمان ودھو کو ہلاک کیا گیا، لیکن لاکھوں لوگوں نے شرکت کر کے خود کو ثابت قدم ثابت کیا۔‘

اس فریڈ مارچ کے موقعے پر مقصود قریشی اور سلمان ودھو کی نمازے جنازہ بھی ادا کی گئی، جن کی میتیں بعد میں رتودیرو کے لیے روانہ کردی گئیں۔ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ دونوں کو گولیاں مار کر ہلاک کرنے کے بعد لاشوں کو جلایا گیا۔

Image caption فریڈ مارچ کے موقعے پر مقصود قریشی اور سلمان ودھو کی نمازے جنازہ بھی ادا کی گئی

اس ریلی کے لیے یوم پاکستان کا انتخاب کیوں، یہ سوال میں نے ایک نوجوان محمد یامین سے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’سندھ کو مسلسل احساس محرومی کی طرف دھکیلا جارہا ہے، انیس سو چالیس کی قرار داد میں صوبوں کے حق حاکمیت کو تسلیم کیا گیا تھا لیکن بعد میں اس پر عمل نہیں کیا گیا، آج ہم اس قرار داد سے اپنی بیزاری کا اعلان کرتے ہیں۔‘

دو ہزار بارہ میں بھی جئے سندھ قومی محاذ نے فریڈم مارچ کا کیا تھا، لیکن اس بار شرکا کی تعداد زیادہ نظر آئی، جس میں اکثریت نوجوانوں کی تھی۔ لاطینی امریکہ کے گوریلا رہنما چے گویرا کی ٹی شرٹ پہنے ہوئے نوجوان علی حیدر سے میں نے پوچھا کہ اُن کا مقصد کیا ہے۔

’سندھی قوم کو یہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ آپ کے حقوق اور معدنی وسائل محفوظ ہوں گے، لیکن یہ سب کچھ جھوٹ نکلا، پینسٹھ سال گزرنے کے بعد بھی ہم احساس محرومی کا شکار ہیں، ہمارے بچے بھوک مر رہے ہیں، ہم سے اندرونی اور بیرونی طور پر ہم سے لڑا جارہا ہے۔‘

مارچ کی گزر گاہ ایم اے جناح روڈ کو رات سے ہی ٹاور سے لیکر سی بریز پلازہ تک کنیٹنروں کی مدد سے سیل کیا گیا تھا۔ جئے سندھ قومی محاذ نے انتظامیہ کو جلسے کا مقام تبدیل کرنے سے انکار کیا تھا تاہم روٹ تبدیل کر کے مارچ کے پُرامن ہونے کی یقین دہانی کرائی تھی جس پر وہ قائم رہی۔

جئے سندھ تحریک کے بانی جی ایم سید تھے، جو پاکستان کے قیام کی تحریک میں سرگرم رہے۔ انھوں نے سندھ اسمبلی میں پاکستان کی قیام کے قرارداد پیش کی، انیس تہتر میں آئینِ پاکستان کے بعد انھوں نے پارلیمانی سیاست کو یہ کہہ کر خیرآباد کہا کہ اب صوبوں کو حقوق نہیں مل سکیں گے اور انھوں نے سندھ کی آزادی کا نعرہ لگایا۔

اسی بارے میں