نظریہ پاکستان ریلی کے جواب میں فریڈم مارچ

Image caption جماعتۃ الدعوۃ نے نظریہ پاکستان کے نام سے کراچی میں اپنے مرکز سفاری پارک سے پریس کلب تک ریلی کا اعلان کیا ہے

سندھ کے دارالحکومت کراچی میں اتوار کو مذہبی جماعتیں ’نظریہ پاکستان‘ ریلیاں اور اجتماع منعقد کر رہی ہیں تو قوم پرست جماعتیں جئے سندھ قومی محاذ کے زیر انتظام ’فریڈم مارچ‘ کریں گی۔

جماعتۃ الدعوۃ نے نظریہ پاکستان کے نام سے کراچی میں اپنے مرکز سفاری پارک سے پریس کلب تک ریلی کا اعلان کیا ہے، جس کی قیادت تنظیم کے مرکزی رہنما امیر حمزہ کریں گے، ایسی نوعیت کی ریلیاں لاہور اور اسلام آباد میں بھی منعقد کی جائیں گی۔

جماعت اسلامی کی جانب سے محمد علی جناح کے مزار کے قریب واقع نشتر پارک میں تحفظ پاکستان کنوینشن منعقد کیا جارہا ہے جس سے جماعت کے امیر منور حسن خطاب کریں گے، جبکہ شہر بھر سے جماعت اسلامی کے کارکن شریک ہوں گے۔

پاکستان کی مذہبی جماعتوں نے ایسے وقت میں یوم پاکستان بھرپور طریقے سے منانے کا اعلان کیا ہے جب کالعدم تحریک طالبان سے حکومت کے مذاکرات ہو رہے ہیں۔

دوسری جانب سندھ کی آزادی پر یقین رکھنے والی قوم پرست جماعت سندھ قومی محاذ (جسقم) نے بھی اپنے ’فریڈم مارچ‘ کے لیے 23 مارچ کا انتخاب کیا ہے۔ اس مارچ کی تیاریوں کے دوران تنظیم کے رہنما مقصود قریشی اور سلمان ودھو کا پراسرار حالات میں قتل بھی ہوا ہے۔ جسقم نے بھی ایم اے جناح روڈ پر مارچ اور دھرنے کا اعلان کیا ہے۔

کمشنر کراچی اور دو ڈی آئی جیز نے گذشتہ روز جئے سندھ قومی محاذ کے چیئرمین صنعان قریشی اور وائس چیئرمین ڈاکٹر نیاز کالانی سے ملاقات کرکے ریلی کا مقام تبدیل کرنے کی گزارش کی لیکن جقسم قیادت نے انکار کردیا تاہم انھوں نے مارچ کے پر امن ہونے کی مکمل یقین دہانی کرائی۔

ڈاکٹر نیاز کالانی کا کہنا تھا کہ ریلی کا روٹ اور وقت تبدیل کیا جاسکتا ہے لیکن جگہ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ انھوں نے ان جماعتوں سے بات کرلی ہے جن کے پروگرام ہیں اور وہ پرامید ہیں کہ ریلی پرامن ہوگی۔

اس فریڈ مارچ کے موقعے پر مقصود قریشی اور سلمان ودھو کی نماز جنازہ بھی ادا کی جائے گی۔ ان کی میتیں نوشہروفیروز سے کراچی منتقل کی گئی تھی اور پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دونوں کو گولیاں مارکر ہلاک کرنے کے بعد لاشوں کو جلایا گیا۔

جئے سندھ قومی محاذ نے قائد کے مزار کے بجائے اب نیٹیو جیٹی سے تبت سینٹر تک فریڈم مارچ کا اعلان کیا ہے، جس کے روٹ کو رات سے ہی کنٹیٹروں کی مدد سے سیل کردیا گیا تھا، جبکہ پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔

اس فریڈ مارچ کی جئے سندھ تحریک کے تمام دھڑوں، سندھ ترقی پسند پارٹی اور دیگر جماعتوں نے حمایت کرکے اس میں شرکت کا اعلان کیا ہے۔ سندھ بھر سے قافلے کراچی کے لیے روانہ ہوچکے ہیں، ایم اے جناح روڈ پر سندھ دھرتی سے محبت اور لوگوں کی محرومیوں کے گیت چلائے جا رہے ہیں۔ ان میں اکثر وہ گیت ہیں جو جنرل ضیاالحق کے مارشلا کے دور میں گائے گئے تھے۔

اسی بارے میں