مذاکراتی ایجنڈے پر بات چیت میں آئی ایس آئی کے سربراہ بھی شریک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption طالبان کے مطالبات پر غور ہو رہا ہے لیکن آئین اور قانون سے بالاتر کسی بھی مطالبے کو تسلیم نہیں کیا جائے گا: نواز شریف

کالعدم تحریکِ طالبان کےساتھ براہِ راست مذاکرات کے ایجنڈے پر بات چیت کے لیے حکومتی کمیٹی کے اجلاس میں ملک کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل ظہیر السلام نے بھی شرکت کی ہے۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق حکومتی کمیٹی کا یہ اجلاس وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان کی صدارت میں پیر کو اسلام آباد میں ہوا۔

پاکستان کی فوج نے حکومت کی طرف سے طالبان کے ساتھ براہِ راست مذاکرات میں شریک نہ ہونے کا کہا تھا۔

لیکن طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کے رکن پروفیسر ابراہیم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک دو روز میں طالبان شوریٰ سے ملاقات ہو گی جس میں حکومت اور طالبان کے منتخب مذاکرات کاروں کے علاوہ خفیہ ادارے آئی ایس آئی کا نمائندہ بھی شریک ہوسکتا ہے۔

انھوں نے کہا ’ کور کمانڈر کانفرنس میں کہا گیا تھا کہ فوج براہ راست مذاکرات کا حصہ نہیں بنے گی اور حکومت جو بھی فیصلہ کرے گی وہ اسے قبول کرے گی، البتہ ایجنسیوں کی نمائندگی جس میں سب سے بڑی ایجسنی آئی ایس آئی ہے مذاکرات میں شامل ہو سکتی ہے۔‘

طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے حکومتی کمیٹی پورٹس اور شپنگ کے وفاقی سیکریٹری حبیب اللہ خان خٹک، ایڈیشنل چیف سیکریٹری فاٹا ارباب محمد عارف، وزیرِاعظم سیکریٹریٹ میں ایڈیشنل سیکریٹری فواد حسن فواد اور پی ٹی آئی کے رستم شاہ مہمند پر مشتمل ہے۔

پروفیسر ابراہیم کا کہنا تھا کہ طالبان سے مذاکرات میں پہلی ترجیح مستقل امن کا قیام یا کم ازکم جنگ بندی میں توسیع کروانا ہے۔

پاکستان کے مقامی میڈیا میں یہ خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ حکومتی کمیٹی طالبان کی قید میں موجود سابق گورنر پنجاب اور پاکستان کے سابق وزیراعظم کے بیٹوں شہباز تاثیر اور سید علی حیدر گیلانی اور اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر اجمل خان کی بازیابی کے لیے بات کریں گے۔

لیکن طالبان کمیٹی کے رکن پروفیسر ابراہیم نے کہا کہ ’جب ہم گذشتہ بار طالبان کی شوریٰ کے ساتھ مذاکرات کے لیے گئے تو حکومت کے قیدیوں کی رہائی کے معاملے پر طالبان نے جواب میں خاموشی اختیار کی تھی ان کی طرف سے نہ ہاں میں جواب ملا نہ ہی ناں میں۔‘

پروفیسر ابراہیم نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ طالبان اس انتظار میں ہیں کہ پہلے حکومت ان کے غیر عسکری قیدیوں کو رہا کرنے کا سلسلہ شروع کرے تو پھر وہ بھی ایسا کریں۔

پروفیسر ابراہیم نے تسلیم کیا کہ طالبان اور فوج کے درمیان تناؤ تو ہے اور یہ ایک پیچیدہ معاملہ ہے۔

’ ماضی میں فوج نے معاہدے کیے اور اگر اس وقت فوج یہ ذمہ داری حکومت کو دیتی ہے اور اپنے آپ کو حکومت کا پابند قرار دیتی ہے تو یہ اچھی بات ہے اس سے پیچیدگیاں حل ہو سکتی ہیں۔‘

یاد رہے کہ وزیرِاعظم پاکستان نواز شریف نے 13 مارچ کو کہا تھا کہ طالبان کے مطالبات پر غور ہو رہا ہے لیکن آئین اور قانون سے بالاتر کسی بھی مطالبے کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں