’افغان الزامات اور طالبان سے مذاکرات پر تحفظات بے بنیاد‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جمعرات کے روز دارالحکومت کابل کے فائیو سٹار ہوٹل سرینا میں مسلح حملہ آوروں کی فائرنگ سے کم سے کم نو افراد ہلاک ہو گئے تھے

پاکستان نے کابل کے سرینا ہوٹل پر حملے میں ملوث ہونے کے الزام کی پر زور انداز میں تردید کرتے ہوئے حکومتِ پاکستان کے کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے مذاکرات پر افغانستان کی تشویش پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔

کابل:سرینا ہوٹل پر حملہ، نو افراد ہلاک

کابل کے سرینا ہوٹل پر مسلح افراد کے حملے اور افغان حکومت کی طرف سے پاکستان پر الزام کے بعد پاکستانی دفترِ خارجہ کی جانب پیر کی شام بیان جاری کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ ’ہم اس الزام کو مسترد کرتے ہیں، فوری طور پر پاکستان پر الزام لگانا سود مند ثابت نہیں ہوگا اور اسے ترک کیا جانا چاہیے۔‘

پاکستان نے کہا ہے کہ یہ بہت پریشان کن ہے کہ دہشت گردی کے اس حملے میں پاکستان کو ملوث کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

دفتر خارجہ نے حکومت پاکستان اور کالعدم تحریک طالبان کے مابین مذاکرات پر افغانستان کے وزیرداخلہ کے تحفظات پر حیرت کا اظہار کیا ہے ۔

بیان کے مطابق پاکستان کی طالبان کے ساتھ مذاکرت پر اعلیٰ افغان قیادت نے حمایت کی تھی۔

پاکستان کا یہ بھی کہنا ہے کہ افغانستان میں صاف شفاف انتخابات کےانعقاد کے لیے پاکستان نے بار بار اپنے تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے۔

یاد رہے کہ افغانستان میں حکام کا کہنا ہے کہ جمعرات کو کابل کے فائیو سٹار ہوٹل سرینا پر حال ہی میں ہونے والا حملہ ’غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں‘ کی منصوبہ بندی سے کیا گیا ہے۔

افغان نیشنل سکیورٹی کونسل کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ حملے سے ایک روز قبل ایک پاکستانی سفارتکار ہوٹل کی راہ داریوں کی تصاویر کھینچتے دیکھا گیا تھا۔

کابل میں نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ افغان حکام کے بیان میں پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی پر پوشیدہ انداز میں الزام لگایا گیا ہے۔

یاد رہے کہ جمعرات کے روز دارالحکومت کابل کے فائیو سٹار ہوٹل سرینا میں مسلح حملہ آوروں کی فائرنگ سے کم سے کم نو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اس سے قبل افغان حکومت کا کہنا تھا کہ اس حملے کی وجہ پاکستان میں تحریکِ طالبان پاکستان اور حکومت کے درمیان فائر بندی ہے۔ افغان حکومت کے خیال میں اس فائر بندی سے پاکستان میں طالبان کو یہ موقع مل گیا ہے کہ وہ اپنی توجہ افغانستان پر مرکوز کر سکیں۔

کابل سے بی بی سی کے نامہ نگار ڈیوڈ لیون کا کہنا ہے کہ افغان حکام عموماً اپنی اس رائے کا اظہار نہیں کرتے کہ پاکستان افغانستان میں پر تشدد کارروائیوں کا ذمہ دار ہے مگر یہاں یہ تاثر ضرور پایا جاتا ہے۔

نامہ نگار کا کہنا ہے وزارتِ داخلہ کے ترجمان صدیق صدیقی نے انتہائی واضح انداز میں افغان انتخابی مہم کے دوران پاکستانی فائر بندی کو دہشت گردی کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

اسی بارے میں