پولیو کے قطرے پلانے کا ’جرم‘ : گولیوں سے چھلنی لاش

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption خاتون پانچ بچوں کی ماں تھی

خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں انسداد پولیو مہم کی ایک خاتون کارکن کواغوا کرنے کے بعد قتل کر دیا گیا ہے۔ اس واقعے کے بعد مقامی لوگوں نے چمکنی کے قریب روڈ بلاک کر کے احتجاج کیا ہے۔

پولیس انسپکٹر محمد عرفان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انسدادِ پولیو مہم کی ایک خاتون کارکن کو گذشتہ روز نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا تھا۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ کل نا معلوم افراد لیڈی ہیلتھ ورکر کے گھر میں گھس گئے تھے جہاں سے اسے اغوا کر کے ساتھ لے گئے تھے۔

پشاور دنیا میں پولیو وائرس کا گڑھ ہے: عالمی ادارہ صحت

خاتون پانچ بچوں کی ماں تھی اور ان کے شوہر ادویات کی ایک کمپنی میں کام کرتے ہیں۔

خاتون پشاور کے نواحی علاقے گلوزئی کی رہائشی تھی۔ اہلِ علاقہ نے اس وقت بھی احتجاج کیا تھا جب نا معلوم افراد اسلحے کی نوک پر خاتون کو اغوا کر کے ساتھ لے گئے تھے۔

پیر کی صبح خاتون کارکن کی لاش تھانہ داؤد زئی کی حدود میں کھیتوں سے ملی ہے۔

پولیس کے مطابق خاتون کے جسم پر فائرنگ کے زخم ہیں۔ اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ حملہ آور کون تھے۔

پولیس انسپکٹر عرفان کا کہنا ہے کہ لواحقین نے اب تک کچھ ایسی بات نہیں کی ہے کہ ان کی کسی کے ساتھ کوئی ذاتی دشمنی تھی تاہم اس بارے میں مذید تحقیقات کی جا رہیں ہیں۔

اس واقعے کے بعد انسداد پولیو مہم کے کارکنوں اور اہل علاقہ نے احتجاج کے طور پر بڈھنی کے مقام پر موٹر وے بلاک کردی اور سخت نعرہ بازی کی۔

گذشتہ مہینے بھی نا معلوم افراد نے ایف آر ٹانک کے علاقے سے انسداد پولیو کے دو کارکنوں کو چار لیویز اہل کاروں سمیت اغوا کر لیا تھا۔ تمام چھ افراد کو تاحال بازیاب نہیں کرایا جا سکا ہے۔

پاکستان میں خاص طور پر خیبر پختونخوا ، قبائلی علاقوں اور کراچی میں انسداد پولیو مہم کے کارکنوں اور انھیں تحفظ فراہم کرنے والے اہل کاروں پر متعدد حملے ہو چکے ہیں جن میں لگ بھگ تیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

پشاور میں گذشتہ آٹھ ہفتوں سے اب تک انسداد پولیو مہم کی بجائے صحت کا انصاف مہم جاری ہے جس میں بچوں کو نو مختلف بیماریوں کی دوائی دے جاتی ہے ۔

یہ مہم سنیچر یا اتوار کے روز مختلف علاقوں میں ہوتی ہے۔ گذشتہ روز بھی اس مہم کے سلسلے میں شہر کے مختلف علاقوں میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔

اسی بارے میں