موسم خراب ہو گیا، مذاکرات نہ ہو سکے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption طالبان کے مطالبات پر غور ہو رہا ہے لیکن آئین اور قانون سے بالاتر کسی بھی مطالبے کو تسلیم نہیں کیا جائے گا: نواز شریف

جماعتِ اسلامی کے رہنما پروفیسر ابراہیم خان نے کہا ہے کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات میں قاری شکیل، اعظم طارق، مولوی ذاکر اور مولوی بشیر طالبان کی نمائندگی کریں گے۔

پروفیسر ابراہیم خان نے جو طالبان کے مذاکراتی کمیٹی کے رکن رہے ہیں بی بی سی کو بتایا کہ خراب موسم کی وجہ سے حکومتی کمیٹی منگل کو طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے قبائلی علاقے میں نہیں جا سکی ہے۔

انھوں نے کہا کہ موسم ٹھیک ہونے پر براہِ راست مذاکرات کا عمل شروع ہو جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ طالبان کے سابق نمائندہ مذاکرات کار جن میں وہ خود اور مولانا یوسف شاہ شامل ہیں حکومتی کمیٹی اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات میں مبصر یا معاون کے طور پر شریک ہوں گے۔

اس سے پہلے پروفیسر ابراہیم نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ایک دو روز میں طالبان شوریٰ سے ملاقات ہو گی جس میں حکومت اور طالبان کے منتخب مذاکرات کاروں کے علاوہ خفیہ ادارے آئی ایس آئی کا نمائندہ بھی شریک ہوسکتا ہے۔

انھوں نے کہا تھا کہ ’ کور کمانڈر کانفرنس میں کہا گیا تھا کہ فوج براہ راست مذاکرات کا حصہ نہیں بنے گی اور حکومت جو بھی فیصلہ کرے گی وہ اسے قبول کرے گی، البتہ ایجنسیوں کی نمائندگی جس میں سب سے بڑی ایجنسی آئی ایس آئی ہے مذاکرات میں شامل ہو سکتی ہے۔‘

خیال رہے کہ پاکستان کی فوج نے حکومت کی طرف سے طالبان کے ساتھ براہِ راست مذاکرات میں شریک نہ ہونے کا اشارہ دیا تھا۔

لیکن کالعدم تحریکِ طالبان کےساتھ براہِ راست مذاکرات کے ایجنڈے پر بات چیت کے لیے حکومتی کمیٹی کے پیر کے اجلاس میں ملک کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل ظہیر السلام نے بھی شرکت کی تھی۔

طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے حکومتی کمیٹی پورٹس اور شپنگ کے وفاقی سیکریٹری حبیب اللہ خان خٹک، ایڈیشنل چیف سیکریٹری فاٹا ارباب محمد عارف، وزیرِاعظم سیکریٹریٹ میں ایڈیشنل سیکریٹری فواد حسن فواد اور پی ٹی آئی کے رستم شاہ مہمند پر مشتمل ہے۔

پروفیسر ابراہیم کا کہنا تھا کہ طالبان سے مذاکرات میں پہلی ترجیح مستقل امن کا قیام یا کم ازکم جنگ بندی میں توسیع کروانا ہے۔

یاد رہے کہ وزیرِاعظم پاکستان نواز شریف نے 13 مارچ کو کہا تھا کہ طالبان کے مطالبات پر غور ہو رہا ہے لیکن آئین اور قانون سے بالاتر کسی بھی مطالبے کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں