کچہری حملہ: اعلٰی پولیس افسران کی تبدیلی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اسلام آباد کچہری پر حملے کی عدالتی تحقیقات جاری ہیں

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ضلع کچہری پر تین مارچ کو ہونے والے حملے کے تناظر میں دارالحکومت کی پولیس کے آئی جی، ایس ایس پی آپریشنز اور نیشنل کرائسس مینیجمنٹ سیل کے سربراہ کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق وزارتِ داخلہ کے ترجمان نے بتایا ہے کہ وفاقی حکومت نے آئی جی اسلام آباد سکندر حیات، ایس یس پی آپریشن ڈاکٹر رضوان اور نیشنل کرائسس مینیجمٹ سیل کے ڈائریکٹر جنرل طارق لودھی کو اپنے عہدوں سے ہٹا کر اسٹیبلیشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت کی ہے۔

حکومت نے پولیس لائن ہیڈ کوارٹر کے ڈی آئی جی خالد خٹک کو آئی جی اسلام آباد اور اے آئی جی آپریشنز اسلام آباد کو ایس ایس پی آپریشنز کی اضافی ذمہ داریاں سونپ دی ہیں۔

تین مارچ کو اسلام آباد کے ایف ایٹ سیکٹر میں واقع کچہری میں ہونے والی فائرنگ اور خودکش بم حملے میں ایک ایڈیشنل سیشن جج سمیت گیارہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اس حملے کی ذمہ داری احرار الہند نامی ایک غیر معروف شدت پسند گروپ نے قبول کر تے ہوئے کہا تھا کہ وہ شریعت کے نفاذ تک اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کچہری پر ہونے والے حملے کا از خود نوٹس لیا تھا۔

اس واقعے کی عدالتی تحقیقات جاری ہیں۔ تحقیقاتی کمیٹی جسٹس شوکت عزیز صدیقی اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار میران جان کاکڑ پر مشتمل ہے۔

اس کمیٹی کی رپورٹ چندر روز میں سامنے آنے والی ہے جس میں سکیورٹی کی ذمہ داری میں غفلت برتنے والے پولیس اہلکاروں کی نشاندہی کی جائے گی۔

تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی 12 مارچ کی کارروائی میں وزراتِ داخلہ کو اسلام آباد کی کچہری میں رینجرز تعینات کرنے کے ہدایات جاری کی تھی اور تحقیقات کے حوالے سے مختلف سکیورٹی اداروں سے معاونت مانگی تھی۔

اسی بارے میں