طالبان کا تین سے چار سو قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption فریقین میں سے کسی نے ابھی قیدیوں کی رہائی سے انکار نہیں کیا:سمیع الحق

پاکستان میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومت سے مذاکرات کرنے والی طالبان کی نمائندہ کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے کہا ہے کہ طالبان نے ابتدائی طور پر تین سے چار سو قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

جمعرات کو صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور طالبان دونوں نے مذاکراتی عمل کو اپنے منطقی انجام تک پہنچانے پر اتفاق کیا ہے

مولانا سمیع الحق نے کہا کہ امن و امان کے قیام کی بات چیت سے قطع نظر بےگناہ عورتوں اور بچوں کو قید نہیں رکھا جا سکتا۔

انھوں نے بتایا کہ حکومتی اور طالبان کمیٹیوں کی طالبان شوریٰ سے پہلی ملاقات ابتدائی جان پہچان کے لیے تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ کوشش ہو گی کہ مذاکراتی عمل میں تیزی لائی جائے۔ ان کے مطابق اس سلسلے میں بار بار ملنے کی ضرورت ہوگی جس کے لیے ایک ’پیس زون‘ ہونا چاہیے۔

قیدیوں کی فہرست کے بارے میں سوال پر انھوں نے کہا کہ ’پہلی فہرست جو دی گئی ہے اس میں تین سے چار سو افراد کے نام شامل ہیں جن کے بارے میں حکومت نے تفتیش اور تحقیق کا وعدہ کیا ہے۔‘

سمیع الحق نے کہا کہ فریقین میں سے کسی نے ابھی قیدیوں کی رہائی سے انکار نہیں کیا اور بات آگے بڑھے گی تو مزید اقدامات ہوں گے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ طالبان کی نامزد کمیٹی جمعے کو اسلام آباد میں حکومتی کمیٹی سے ملاقات کرے گی جس نے جمعرات کو طالبان شوریٰ سے اپنی ملاقات کے بارے میں وزیرِ داخلہ کو بریفنگ دی ہے۔

طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے حکومتی کمیٹی وفاقی سیکریٹری حبیب اللہ خان خٹک، ایڈیشنل چیف سیکریٹری فاٹا ارباب محمد عارف، وزیرِاعظم سیکریٹریٹ میں ایڈیشنل سیکریٹری فواد حسن فواد اور پی ٹی آئی کے رہنما اور سابق سفیر رستم شاہ مہمند پر مشتمل ہے۔

خیال رہے کہ بدھ کو اس چار رکنی حکومتی کمیٹی نے ٹل کے قریب نامعلوم مقام پر طالبان شورٰی سے ملاقات کی تھی۔

طالبان کی طرف سے نامزد کردہ کمیٹی کے رکن سمیع الحق کے معاون احمد شاہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ مذاکرات کے دوران جنگ بندی کو توسیع دینے کے معاملے میں سب سے پہلے بات چیت ہو رہی ہے۔

طالبان کی نمائندہ کمیٹی کے رکن پروفیسر ابراہیم بھی کہہ چکے ہیں کہ طالبان سے مذاکرات میں پہلی ترجیح مستقل امن کا قیام یا کم ازکم جنگ بندی میں توسیع کروانا ہے۔

اسی بارے میں