پاکستان میں تعلیم کے بجٹ میں اضافے کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption وزیراعظم میاں نواز شریف ایک کانفرنس ’تعلیم کا نامکمل ایجنڈہ‘ سے خطاب کر رہے تھے

وزیراعظم نواز شریف نے سنیچر کو ملک بھر میں تعلیم کے لیے نئے حکومتی منصوبے کے آغاز کا اعلان کیا ہے جس کے تحت اگلے چار سالوں میں قومی آمدنی (جی ڈی پی) کا چار فیصد تعلیم کے لیے مختص کیا جائے گا۔

وزیراعظم میاں نواز شریف نےاس منصوبے کا اعلان ایک کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے کیا جس کا عنوان تھا ’تعلیم کا نامکمل ایجنڈا‘ اور اس کا اہتمام وزاتِ تعلیم، تربیت اور اعلیٰ تعلیم نے کیا تھا۔

وزیراعظم نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہماری کوشش ہے کہ ہم آئندہ تین سالوں میں ملینئم ڈویلپمنٹ گول کے تحت تعلیم سب کے لیے کا ہدف حاصل کریں۔‘

اس کانفرنس میں اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے خصوصی ایلچی برائے تعلیم گورڈن براؤن نے بھی شرکت کی۔ برطانیہ کے سابق وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’یہاں ستر لاکھ بچے سکول نہیں جا رہے ہیں جو کہ جدید دنیا میں بالکل قابلِ قبول نہیں ہے اور مجھے معلوم ہے کہ وزیراعظم اس بارے میں کچھ کرنا چاہتے ہیں۔‘

گورڈن براؤن نے بعد میں بی بی سی کی شمائلہ جعفری کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں کہا کہ ’پاکستان اس مسئلے کے حل کے لیے تعلیم پر خرچ کی جانے والی رقم میں اضافہ کر سکتا ہے اور ہم اس حوالے سے عالمی برادری سے پاکستان کے لیے امداد حاصل کر سکتے ہیں۔‘

دوسری جانب وزیراعظم نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان کے لیے تعلیم ایک ترجیح کا معاملہ نہیں بلکہ یہ پاکستان کا مستقبل ہے جو تعلیم یافتہ جوانوں سے جڑا ہوا ہے۔ چونکہ ملک کی نصف سے زیادہ آبادی 25 سال سے کم عمر ہے اس لیے تعلیم ایک قومی ایمرجنسی کی شکل اختیار کر چکی ہے۔‘

وزیراعظم نے کہا کہ اس حوالے سے تشویش کی بات یہ ہے کہ تعلیم کے لیے بجٹ میں کم رقم مختص کرنا، سکول سے باہر بچوں کی بڑی تعداد، تعلیم کے حوالے سے صنفی تخصیص جیسے مسائل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے تعلیم پر خصوصی ایلچی گورڈن براؤن نے بھی وزیراعظم سے ملاقات کی اور اس کانفرنس میں شرکت کی

گورڈن براؤن نے مزید کہا کہ ’ہم نہیں چاہتے کہ بچیوں کو کم عمری میں شادی پر مجبور کیا جائے، ہم بچوں سے جبری مشقت نہیں چاہتے ہیں، ہم نہیں چاہتے کہ بچوں اور بچیوں کو انسانی سمگلنگ میں دھکیلا جائے۔ ہم سکول چاہتے ہیں جن میں اساتذہ ہوں اور ہم اس مسئلے پر جلد سے جلد اثر انداز ہونا چاہتے ہیں کیونکہ ملینئم ڈویلپمنٹ کے اس ہدف کی ڈیڈ لائن اگلے سال دسمبر میں ہے کہ ہر بچہ سکول جائے۔‘

پاکستانی حکومت کی معاونت کے حوالے سے گورڈن براؤن کا کہنا تھا کہ ’ہم نے پاکستانی حکومت سے کہا ہے کہ وہ جو اقدامات کر رہے ہیں ہمیں ان کا نظام الاوقات دیں، تا کہ ہم اس حوالے سے عالمی برادری سے تعاون حاصل کر سکیں۔‘

اسی بارے میں