’افغان سرحد سے پاکستان پر مارٹروں سے حملہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حکام کا کہنا ہے کہ سرحد پار افغانستان کی سرزمین سے پاکستانی علاقے پرمارٹر گولوں سے حملہ کیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق یہ مارٹر گولے سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں کے قریب گرے تاہم ان کے نتیجے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

ایک اعلیٰ سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ سنیچر کی صبح سات سے گیارہ بجے کے درمیان افغان علاقے سے شمالی وزیرستان کے علاقے غلام خان سیکٹر میں افغان نیشنل آرمی کی طرف سے چھ مارٹر گولے داغے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ تمام گولے سرحدی علاقوں میں قائم پاکستانی سکیورٹی چیک پوسٹوں کے قریب گرے، تاہم حملے میں کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ افغان فوج کی جانب سے پاکستان کی سرحدی حدود کی خلاف وزری کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان اور افغانستان گزشتہ کئی سالوں سے ایک دوسرے پر سرحدی حدود کی خلاف ورزی اور سرحد پار سے حملوں کے الزامات لگاتے رہے ہیں۔

اس سرحدی کشیدگی کی وجہ سے اکثر اوقات دونوں ممالک کے رہنما ایک دوسرے کے خلاف بیانات بھی دیتے رہے ہیں۔

تقریباً دو سال پہلے ان حملوں میں اتنا اضافہ دیکھا گیا کہ دونوں ممالک کے صدور نے سرحد پار سے ہونے والے حملوں کی تحقیقات کے لیے ایک مشترکہ فوجی ٹیم بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے نتیجے میں ان حملوں میں کافی حد تک کمی واقع ہوئی تھی۔

اسی بارے میں